اسلام آباد (آن لا ئن) حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ملک میں بیک وقت انتخابات کروانے سے متعلق مذاکرات کے دوسرے دور میں بھی واضح پیش رفت نہ ہوسکی تاہم فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا،مذاکرات کا اگلا دور منگل کو ہوگا۔تحریک انصاف نے پارلیمنٹ میں واپسی کی بھی شرط رکھ دی۔ جمعہ کے روز حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان پارلیمنٹ ہاوس کے کمیٹی روم نمبر تین میں مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسحٰق ڈار، یوسف رضا گیلانی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور نوید قمر ، طارق بشیر چیمہ اور کشور زہرا شریک ہوگئے جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری اور علی ظفر شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی مذاکراتی ٹیم نے مطالبات حکومت کے سامنے رکھ دئیے۔ تحریک انصاف کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت قومی اسمبلی اور دیگر دونوں صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کی تاریخ کا اعلان کرے جبکہ یہ تجویز بھی دی گئی کہ بجٹ سے قبل اسمبلیوں کی تحلیل کی تاریخ کا اعلان کیا جائے، بجٹ کی منظوری کے بعد اسمبلیاں تحلیل کردی جائیں۔ تحریک انصاف کا کہناہے کہ اکتوبر میں الیکشن کی حکومتی ضد قابل قبول نہیں،اسمبلی تحلیل کی تاریخ ہی سیاسی تناو میں فوری کمی لا سکتی ہے، سپریم کورٹ میں اگلی سماعت سے قبل ٹھوس پیشرفت ہونی چاہیے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے ستمبر میں انتخابات کروانے کی تجویز دی ہے جس پر پی ٹی آئی وفد نے عمران خان سے بات کرنے کی ہامی بھرلی ہے۔ اس دوران فریقین کے مابین ڈیڑھ گھنٹے تک مذاکرات کے بعد کچھ دیر کا وقفہ کیا گیا۔اس دوران رہنماوں نے اپنی اپنی پارٹی قیادت سے گائیڈ لائنز اور ہدایات لیں۔ ذرائع کے مطابق وقفے کے دوران تحریک انصاف کے وفد نے عمران خان سے رابطہ کیا۔شاہ محمود قریشی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات سے عمران خان کو آگاہ کیا۔شاہ محمود قریشی نے عمران خان کو حکومتی تجاویز سے آگاہ کیا۔عمران خان نے پی ٹی آئی وفد کو مذاکرات کے اگلے دور کے لئے ہدایات دیں۔ذرائع کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے وفد کو جلد مذاکرات مکمل کرنے کہ ہدایت کی ہے۔تحریک انصاف کا وفد بجٹ سے پہلے اسمبلی تحلیل کی تاریخ کا خواہاں ہے۔چیئرمین تحریک انصاف نے مذاکرات زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ تحریک انصاف کاکہناہے کہ حکومتی تاخیری حربوں میں کسی صورت نہیں آئیں گے۔چیرمین پی ٹی آئی کی ہدایت ہے کہ 7 روز میں مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی سے متعلق سپریم کورٹ کو واضح آگاہ کیا جائے۔ دریں اثناء مذاکرات کے دوسرے دور کے اختتام کے بعد سینیٹر اسحاق ڈار نے صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا آج ہونے والی پیشرفت دونوں فریقین اپنے اپنے سائیڈ پر جا کر شیئر کریں گے اور درمیان میں یکم مئی کی چھٹی بھی ہے تو ہم منگل دو مئی کو دوبارہ ملیں گے،انہوں نے منگل کو آخری راؤنڈ کا عندیا دیتے ہوئے کہاکہ کوئی ڈیڈ لاک نہیں، دونوں جانب سے پیشرفت ہوئی ہے، دونوں نے اپنی اپنی تجاویز دی ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ نہ کسی کی ہار ہو اور نہ جیت۔مذاکراتی کمیٹی کی رکن کشور زہرہ نے کہا سمجھوتہ کی جانب جانا ہو گا۔ خواجہ سعد رفیق نے دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا نہ ڈیڈ ہے نہ لاک ہے صرف ٹاک ہے۔ہم اپنی اپنی پارٹی قیادت کے مینڈیٹ کے ساتھ آئے ہیں کوئی پریشر نہیں ہے۔ پی ٹی آئی رہنماء شاہ محمود قریشی نے کہا گفتگو کا آغاز ہی اس نکتہ پر ہوا کہ آج اسلام آباد میں جو گرفتاریاں ہوئی ہیں ان کا کوئی جواز نہیں ہے،شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نہ کسی پر ایف آئی آر درج تھی نہ کسی نے امن میں خلل پیدا کیا لیکن گاڑی میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو اٹھا لیا گیا.
Load/Hide Comments



