اسلام آباد(آن لائن)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اس وقت تین جج جو سہولت کاری کررہے ہیں ہمیں ان کو کوئی فیصلہ منظور نہیں،وزیر اعظم نے بات کی لیکن ان کو کوئی فیصلہ منظور نہیں عدالت عظمی کی طرف سے جس طرح ڈکٹیٹ کیا جارہا ہے یہ منظور نہیں، قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاہمیں عدالت عظمیٰ کا احترام ہے لیکن جو فیصلے کسی کے مقصد کے حصول کے دیے جائیں وہ منظور نہیں م۔ وزیر دفاع نے اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم صاحب آپ نے تین دو کے فیصلے پر سیٹ نہیں چھوڑنی۔وفاقی وزیرمیاں جاوید لطیف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ 75 سال سے جو سرکس چل رہا ہے اس کا تھوڑا عشر عشیر سردار اختر مینگل نے بیان کیا ہے،ہر روز یہ بات سننے کو ملتی ہے اور دل دکھتا ہے کہ پاکستان ڈوب رہا ہے، اس ملک ڈبونے والوں کو جب تک کٹہرے میں نہیں لائیں گے عوام کا اعتماد بحال نہیں ہوگا،پہلے کہتے تھے کہ فلاں سے جمہوریت کو خطرہ ہے، مگر اب تو ریاست کیلئے خطرہ پیدا ہوگیا،جب ایک پراجیکٹ لانچ کیا گیا تو ہم خیال ججز اور ہم خیال میڈیا کا سہارا لیا گیا،پھر کہا گیا ہم اب نیوٹرل ہیں، اب یہ آنے والا وقت بتائے گا،جب میں کہتا تھا کہ آج بھی سہولت کاری ہورہی ہے میری اپنی جماعت کے لوگ سخت ناراض ہوتے تھے،کیا ساسو ماں کی بات کے بعد واضح نہیں ہورہا کہ سہولت کاری ہورہی ہے،دھرتی ماں پر پہلے بیٹے قربان ہوتے تھے آج دھرتی ماں کو ساسو ماں پر قربان ہوتے پہلی بار دیکھ رہے ہیں،یہ ایوان روشنی اور رہنمائی دیتا ہے مگر کوئی اور کہے کہ اونچی آواز میں بات کرنا بھی توہین عدالت ہوگئی کہا جاتا ہے،مگر اس ادارے کی توہین کیا نہیں ہوتی؟ کیا دنیا بھر میں عدالتی فیصلوں پر رائے زنی نہیں ہوتی؟کیا پنجاب میں 63 اے کو دو مرتبہ ری رائٹ نہیں کیا گیا،جب 2017ء میں اس سفید عمارت سے آئین کی خلاف ورزی ہوئی اور پارلیمان ایکشن لیتا تو پھر 63 اے ری رائٹ نہ ہوتا۔
Load/Hide Comments



