عدلیہ آئین کی تشریح کر سکتی ہے ری رائٹ نہیں،وزیراعظم

اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئین نے پارلیمنٹ کی گود سے جنم لیا ہے،عدلیہ آئین کی تشریح کر سکتی ہے مگر ری رائٹ نہیں کر سکتی۔ کانسٹی ٹیوشن موبائل ایپ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آئین میں ترمیم کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو ہے،یہ بھی کبھی نہیں ہوا کہ پارلیمنٹ قانون بنائے اور عدلیہ حکم امتناع جاری کر دئیے،آئین کی پاسداری اور احترام کیلئے تمام اداروں اور قوم کو یکسو ہونا پڑے گا۔آج پاکستان ایک دوراہے پر کھڑا ہے،مجھ سمیت تمام سیاستدانوں سے غلطیاں ہوئیں،بڑے لوگ وہی ہوتے ہیں جو غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے چلتے ہیں،یقیناََ سبق سیکھا ہے اور مل کر پاکستان کو مشکلات سے نکالیں گے۔شہباز شریف نے کہا ہم یکسو ہیں کہ سیاسی اثاثہ ریاست کیلئے قربان کرنے میں نہیں ہچکچائیں گے،پارلیمان کوئی قانون بنائے جو نافذ بھی نہیں ہوا اس پر عدالت نے اسٹے آرڈر جاری کر دیا،ماضی میں عدالت کی طرف سے ایسے اسٹے آرڈر کی مثال نہیں ملتی۔انکا کہنا تھا یہ بہترین فیصلہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں آئین نصاب کا حصہ بن جائے،آئین بچے بچے کو یاد ہو جائے گا تو قانون کی حکمرانی میں مدد ملے گی،بڑے لوگ خود کو قومی مفاد کے تابع کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ ملک بھر میں انتخابات ایک ساتھ کرانے کے کیس کی سماعت کی وجہ سے وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سعودی عرب منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے آج سعودی عرب روانہ ہونا تھا اور وہاں ان کی قائد مسلم لیگ ن نوازشریف سے ملاقات بھی ہونا تھی تاہم سپریم کورٹ میں الیکشن کیس کی سماعت کے پیش نظر وزیراعظم نے دورہ سعودی عرب منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا،میاں محمد نواز شریف عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں موجود ہیں۔