اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف و سابق وزیراعظم عمران خان کی ویڈیو لنک پر عدالت حاضری کے حوالے سے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کو بْرا لگے یا اچھا عمران خان ایک بڑی پارٹی کے سربراہ ہیں عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ میں میشا شفیع کیس پر انحصار کرنا چاہوں گا جس پر عدالت نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا جہاں استعمال ہو سکتا ہے ہونا چائیے یہ سارا معاملہ لیکن صرف عمران خان کی حد تک نہیں اس درخواست پر فیصلے کے دیگر مقدمات پر بھی اثرات ہوں گے شواہد ریکارڈ ہونے کے دوران تو میشا شفیع کیس کا اطلاق ٹھیک ہے کیس میں فرد جرم بھی عائد ہونا ہوتی ہے کیا وہ بھی ویڈیو لنک پر ہو گی جس پر عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ فرد جرم میں ملزم کی موجودگی صرف ملزم کے فائدے کیلئے ہوتی ہے مقصد یہ ہوتا ہے کہ ملزم خود سن سکے اس پر الزام کیا ہے یہ مقصد ویڈیو لنک پر بھی پورا ہو سکتا ہے عمران خان کی گزشتہ دو پیشیوں پر سکیورٹی مسائل پیدا ہو ئے وہ سکیورٹی مسائل کن کی وجہ سے پیدا ہوئے ابھی تک طے نہیں ہوا اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دْگل کے جوابی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دیکھنا ہو گا کیا کریمنل کیس میں کوئی رْول ویڈیو لنک کی اجاذت دیتا ہے کریمینل ٹرائل میں تو فیصلہ سننے بھی ملزم کی موجودگی لازم ہیدْگل صاحب سی آر پی سی 1898 کی ہے جس پر عدالت نے کہا کہ اْس وقت ظاہر ہے ویڈیو لنک نہیں تھا اس کا قانون میں زکر نہیں قانون ساز اگر چاہتے تو جدید تقاضوں کیمطابق اسے بدل سکتے تھے ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں ٹیکنالوجی کا جہاں ہو سکے استعمال ہونا چاہیے اس موقع پر عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی جانب سے تو یہی بتایا گیا وہ کوئی نامعلوم لوگ تھی جس پر عدالت نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ تو ویڈیو لنک پر فیصلہ دے چکی ہے اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بھارت میں 2005 سے لے کر سسٹم انسٹال کیا گیا پورا سسٹم لگانا ہوگا کہ کیا ویڈیو لنک پر موجود ملزم کمرے میں اکیلا ہے جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا انڈیا میں ویڈیو لنک ٹرائل ہو رہے ہیں کیا یوکے، یو ایس اے میں کوئی فیصلہ آیا ویڈیو لنک پرکیا ان ممالک میں کسی عدالت نے کہا ویڈیو ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ امریکی اور برطانوی عدالت نے کہا“کیس ٹْو کیس”دیکھا جا سکتا ہے عمران خان کو ویڈیو لنک کی سہولت دینا ایک تفریق پیدا کرنا ہو گاایک اور سابق وزیر اعظم کو اپیل میں بھی ویڈیو لنک کی سہولت نہیں ملی جس پر عدالت نے کہا کہ آپ نے یہاں سیاسی پہلو پر دلائل نہیں دینے ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان ایک بڑی یا سب سے بڑی پارٹی کے سربراہ ہیں کوئی اس بات کو پسند کرے یا نہ کرے الگ بات ہے عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا.
Load/Hide Comments



