اسلام آباد(آ ن لائن)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے پنجاب میں عام انتخابات منعقد کروانے کے لئے سپریم کورٹ کا سٹیٹ بینک کو 21 ارب روپے الیکشن کمیشن کو فراہم کرنے کا معاملہ حتمی منظوری کے لئے واپس قومی اسمبلی کو بھجوا دیا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اہم ترین اجلاس پیر کے روز قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں وفاقی وزرا برائے تجارت و قانون، وزیر مملکت خزانہ، اٹارنی جنرل آف پاکستان سمیت سٹیٹ بینک کے قائم مقام صدر نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز سے قبل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر تجارت نوید قمر وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا اور عطا تارڑ سمیت قائم مقام گورنر اسٹیٹ، سپیشل سیکرٹری خزانہ پر مشتمل ایک مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیا گیا۔ اجلاس کے آغاز پر کمیٹی رکن مخدوم سید سمیع الحسن نے وفاقی وزیر خزانہ کی عدم شرکت کا معاملہ اٹھایا جس پر چیئرمین کمیٹی نے بھی ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال ہوگیا ہے وزیر خزانہ ابھی تک اجلاس میں نہیں آئے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا ہمیں علم نہیں ہے۔ کمیٹی رکن چوہدری برجیس طاہر نے کہاکہ اپریل کو کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا۔ کمیٹی نے دو گھنٹے غور کیا تھا اور متفقہ طور پر منی بل کو مسترد کر دیا تھا۔ ہمارا موقف تھا کہ پنجاب میں پہلے انتخابات سے باقی صوبوں کے انتخابات پر اثر پڑے گا۔ ہمارا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کے پاس اختیارات ہیں پہلے انھوں نے آرٹیکل 63 میں ترمیم کر کے ہمارا بیڑا غرق کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سپریم کورٹ کس طرح اسٹیٹ بینک کو پیسے ریلیز کرنے کا حکم دے سکتی ہے؟ اس پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاسپریم کورٹ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن قانون کے مطابق ہو۔ سپریم کورٹ نے بعد میں منظوری لینے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اٹارنی جنرل یہ بتائیں گے کہ پیسے کا اختیار کس کے پاس ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل آف پاکستان نے بتایا 2019 میں پبلک فنانس ایکٹ بنایا گیا کہ فنڈز کیسے لئے جاسکتے ہیں۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان نے بتایا چارجڈ اخراجات کی قانون سازی کو قومی اسمبلی نے مسترد کردیا تھا،اٹارنی جنرل دیگر اخراجات میں کورٹ نے فنڈز دینے کی ہدایت کی ہے۔ اس حوالے سے قومی اسمبلی نے فیصلہ کیا تھا کہ فنڈز نہیں دیئے جاسکتے۔ پوسٹ فیکٹو منظوری ہوتی ہے لیکن اب یہ فیصلہ قومی اسمبلی نے کرنا ہے۔ وزارت خزانہ کو کہیں کہ یہ ڈیمانڈ بنائی جائے اور کابینہ کو بھیجی جائے۔ انہوں نے کہا کابینہ اس ڈیمانڈ کو قومی اسمبلی کی سامنے رکھے۔ وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ میڈیا یہاں بیٹھا ہے ہم اس کو قبول اور مسترد نہیں کررہے بلکہ تصحیح کررہے ہیں۔ وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کمیٹی کو بتایا سپریم کورٹ کا حکم قابل عزت ہے لیکن ہمیں آئین کے مطابق چلنا ہے۔ کابینہ میں قواعد کے مطابق ڈیمانڈ پیش ہو اور پھر پارلیمنٹ میں لائی جائے گی.
Load/Hide Comments



