اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی حکومت کو سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر عملدر آمد تا حکم ثانی روک دیا ہے۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل سے متعلق سپریم کورٹ کے8 رکنی بینچ کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا گیا۔جمعرات کو معاملے کی سماعت کے آٹھ صفحات پر مشتمل جاری تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ بظاہر مجوزہ قانون سے عدلیہ کی آزادی میں مداخلت کی گئی ہے،بادی النظر میں بل کے ذریعے عدلیہ کی آزادی میں مداخلت کی گئی،عدلیہ کی آزادی میں مختلف طریقوں سے براہ راست مداخلت کی گئی ہے،بل قانون کا حصہ بنتے ہی عدلیہ کی آزادی میں مداخلت شروع ہو جائے گی،بل پر عبوری حکم کے ذریعے عملدرآمد روکنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، صدر بل پر دستخظ کریں یا نہ کریں دونوں صورتوں میں بل پر عملدر آمد نہیں کیا جاسکتا۔ سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی، ایم کیو ایم، بی اے پی، ق لیگ اور تحریک انصاف کو نوٹسز جاری کئے ہیں۔ اپنے حکم میں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کو نسل کو بھی معاونت کیلئے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔معاملہ کی آئندہ سماعت 2 مئی کو عدالت عظمی کا آٹھ رکنی لارجر بنچ کرے گا۔قبل ازیں چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید بنچ میں شامل ہیں۔سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے خلاف 4 درخواستیں عدالت عظمیٰ میں دائر کی گئی ہیں، بل کے خلاف درخواستیں ایڈووکیٹ خواجہ طارق رحیم اور دیگر نے دائر کی ہیں.
Load/Hide Comments



