اسلام آباد (آن لائن)حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر ہونے پراظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پک اینڈ چوز‘ کے ذریعے 8 رکنی بینچ تشکیل دیکر سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا ہے۔ہم اس بینچ کی تشکیل قبول نہیں کرتے،ہم پر جو بھی عذاب گرے لیکن اس پر سمجھوتا نہیں کر سکتے، چیف جسٹس کے اختیار پر اعتراض نہیں کیا بلکہ کہا اس میں توازن قائم ہونا چاہیے۔،ضد اور انا کا مظاہرہ کیا جائے گا تو پوری قوم کو اعتراض ہو گا، جمعرات کو اسلام آباد میں حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ موجودہ حالات پر بات کرنا اس لیے مقصود ہے کہ کئی چہ مگوئیاں ہوتی ہیں اور سوالیہ نشانات ہیں اور مؤقف پر بھی بات کی جاتی ہے، اسی لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ میڈیا سے بات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بڑے افسوس اور دکھ کے ساتھ یہ بات کر رہے ہیں کہ آج غیرروایتی کام کیا گیا ہے اور سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی جو سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023کے حوالے سے ہے، جو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کروایا گیا اور صدر کو بھیج دیا گیا لیکن وہاں واپس بھیج دیا گیا تو مشترکہ اجلاس میں بحث کے بعد منظوری کے لیے دوبارہ صدر مملکت کو بھجوا دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت صدر مملکت اس پر مزید 10 دن یعنی 19 یا 20 اپریل تک جائزہ لے سکتے ہیں اور صدر نے دستخط نہیں کیے تو اور ایکٹ آف پارلیمنٹ میں تبدیل نہیں ہوا اور قانون بننے سے پہلے ہی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی اور وہ سماعت کے لیے مقرر کردی گئی۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سماعت کے لیے 8 رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا، ہم نے ماضی میں دیکھا کہ کبھی بھیقانون سازی سے پہلے سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا جاتا ہے، اگر یہ قانون بن جاتا ہے تو پھر اس کو چیلنج کیا جاسکتا ہے اور یہ شہری کا حق بنا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح عجلت میں یہ مقدمہ مقرر کیا گیا اور یہ بینچ بنایا گیا، اس میں بھی بارہا پارلیمان اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے اور بار کونسلز نے بھی مطالبہ دہرایا اور گزشتہ ایک برس سے کئی مواقع پر کیا گیا۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ جب آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے بعد پنجاب حکومت کی تبدیلی کا مقدمہ سپریم کورٹ میں آیا تو اس وقت بھی مطالبہ کیا گیا فل کورٹ تشکیل دیں کیونکہ یہ ایک اہم قومی معاملہ ہے لیکن اس وقت بھی لارجر بینچ یا فل کورٹ نہیں دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سپریم کورٹ بار کے 7 سابق صدور نے مطالبہ کیا حالانکہ عدلیہ کی آزادی کے لیے بار کا کردار رہا ہے اور اس کے بعد بھی کئی مواقع آئے لیکن فل کورٹ نہیں بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ ساری صورت حال بہت الارمنگ ہے، موجودہ بل کو قبل از وقت ایک ’سلیکٹیو‘ بینچ کے سامنے لگانا، جس میں سینیارٹی کے تمام اصول نظرانداز کیے گئے ہیں اور دو سینئرترین جج صاحبان اس میں نہیں ہیں، پانچویں، ساتویں اور آٹھویں نمبر پر موجود سینئر جج اس بینچ میں شامل نہیں ہیں بلکہ ’پک اینڈ چوز‘ کے ذریعے 8 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہمیں اس بات پر دکھ اور تکلیف بھی ہے اور عدالتی مثال بھی ہے چیف جسٹس صاحب کے بینچ بنانے کے اختیارات سے متعلق بل ہے جو ابھی قانون بنا نہیں ہے، مان لیا کہ آپ نے بینچ بنایا ہے تو تمام تر سابقہ روایات اور اصول اس بات کے متقاضی ہیں کہ چیف جسٹس صاحب خود اس بینچ کی سربراہی نہ کریں کیونکہ یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے.
Load/Hide Comments



