پیپلز پارٹی کو سندھ میں تیر کے نشان پر الیکشن لڑنے میں مشکل کا سامنا ہوگا۔ علی زیدی

کراچی(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر و سابق وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو سندھ میں تیر کے نشان پر الیکشن لڑنے میں مشکل پیش آئے گی۔ جو ابھی بھی سمجھ رہے ہیں کہ سندھ میں کچھ نہیں ہونے والا ان کی یہ سوچ غلط سوچ ہے۔ پیپلز پارٹی کا تیر کے نشان پر ووٹ لینا مشکل ہو جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی ٹی آئی سندھ سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر علی زیدی نے میرپور ساکرو سے اقبال خاصخیلی کو پارٹی میں خوش آمدید کہا،علی زیدی کا کہنا تھا کہ اقبال خاصخیلی پہلے بھی ٹاؤن کمیٹی کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ اقبال خاصخیلی نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ کر ٹاون کمیٹی جیتی ہے۔ 5 دن قبل انہوں نے پی ٹی آئی جوائن کی تو ان پر بہت زبردست پریشر آرہا ہے لیکن تگڑے آدمی ہیں مقابلہ کرینگے۔ علی زیدی کا کہنا تھا کہ سندھ میں تحریک انصاف کو پذیرائی مل رہی ہے۔ سندھ کے اندر ریاستی دہشت گردی جاری ہے۔ ڈاکٹر اجمل ساوند کے قتل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے باہر سے آکر پاکستان میں اپنی خدمات پیش کیں۔ ڈاکٹر بیربل کا قتل بھی قابل افسوس ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ گزشتہ روز اسمبلی میں آپ سب نے ڈرامہ دیکھا۔ جو جماعتیں آئین کو توڑ رہی ہیں وہی آئین کے پچاس سال مکمل ہونے کی خوشی منا رہے ہیں۔ گزشتہ روز اسمبلی میں آئین کی کتاب دکھائی گئی۔ اس آئین کو بار بار ترمیم کرتے رہتے ہیں۔ ایک آئین اللہ کا دیا ہوا ہے جو قرآن کریم ہے۔ اس آئین میں ایک نقطے کی بھی ترمیم نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سات منٹ نکال کر سورۃ المنافقون ترجمہ کے ساتھ پڑھ لیں۔ اللہ کا دیا ہوا قرآن ہمارے لیے ضابطہ حیات ہے۔ علی زیدی کا مزید کہنا تھا کہ جو بھی سوال پوچھا جارہا ہے اس پر عمران خان کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ گزشتہ روز ساری سیاسی تقاریر کی گئیں۔ عدلیہ پر ان ڈائیریکٹلی حملے ہوتے رہے۔ گزشتہ روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی وہاں موجود تھے۔ میرے ذہن میں کچھ سوالات ہیں۔ سپریم کورٹ میں سترہ ججز ہیں۔ صرف ایک ہی جج کیوں موجود تھے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کتنے ججز کو دعوت نامہ بھیجا گیا۔ ہم نے کبھی سپریم کورٹ کو اٹیک نہیں کیا۔ اسی سپریم کورٹ کے ججز نے قاسم سوری کی رولنگ کو اڑایا تھا جس سے ہماری حکومت گئی۔ ہم نے اس وقت بھی فیصلے کو تسلیم کیا۔ عمران خان کی جدوجہد رول آف لاء کی رہی ہے۔ جبکہ یہ کبھی ججز پر حملہ کرتے ہیں تو کبھی سپریم کورٹ پر، کبھی ججز کو رشوت دیتے ہیں تو کبھی ججزسے فرمائشیں کرتے ہیں جسکی آڈیو بھی موجود ہے۔ کئی دفعہ یہ خود بھی کہتے ہمارے پاس ان کی آڈیوز اور ویڈیوز موجود ہیں۔ ایک موصوف نے ٹی وی چینل پر چیف جسٹس آف پاکستان کو گالی دیدی۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ اس پر ایکشن ہوتا ہے یا نہیں۔ یہاں تو ریٹائرڈ آرمی چیف کو کچھ کہنے پر لوگوں کو اٹھا لیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ٹوئٹ کرنے پر نوجوانوں کو اٹھالیا جاتا ہے۔ ہمارے 10-11 سال کے بچوں کو اٹھایا گیا ہے۔ یہ آڈیو ویڈیوز کی دھمکیاں دیتے ہیں ان کے پاس آڈیو ویڈیوز آئی کہاں سے ہیں؟ قاضی فائز عیسی نے کہا کے مجھے علم نہیں تھا یہاں سیاسی تقاریر ہونی ہیں۔