اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا کو وفاقی وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر نے بتایا ہے کہ تھر کول سے چلنے والے بجلی کے منصوبو ں کیلئے ٹرانسمشن لائن اگلے چار ہفتوں میں مکمل کر لی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان بالا میں تحریک پر بات کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے تھر میں بجلی کی ٹرانسمشن لائن اور ریلوے ٹریک کی تکمیل کے حوالے سے تحریک پر بات کرتے ہوئے کہاکہ تھر میں گندم اور کپاس سمیت 22غذائی اجناس جدید طریقوں سے پیدا کئے جارہے ہیں تھر کے اندر اس وقت 2640میگا واٹ بجلی کی پیدا وار ہوتی ہے لیکن تھر کی بجلی کیلئے ٹرانسمشن لائن کی کیپیسٹی کم ہے جس کی وجہ سے بجلی کی پیداوار مجبوراًکم کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تھر کیلئے ریلوے لائن جلد بنا دی جائے، اس وقت جعلی مردم شماری پر 35ارب روپے خرچ کئے جارہے ہیں جبکہ اصل منصوبوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے ہماری ترجیحات غلط ہیں اس موقع پر وفاقی وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر نے کہاکہ تھر کے جتنے بھی منصوبے ملک کو بجلی فراہم کر رہے ہیں یہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے شروع کیے تھے جس کو تحریک انصاف کی حکومت نے مکمل نہ ہونے دیا۔ انہوں نے کہاکہ تاخیر کا شکار چار منصوبوں کو گذشتہ 11مہینوں میں مکمل کیا گیا ہے اور تھر کول سے مجموعی طور پر 3300میگا واٹ بجلی پیدا ہورہی ہے، تھر کیلئے دوسری ٹرانسمشن لائن اگلے چار ہفتوں میں مکمل کر لی جائے گی۔
Load/Hide Comments



