اسلام آباد ( آن لائن ) مسلم لیگ ن کے رہنما و وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ عمران خان کی کسی بات کی کوئی ساکھ نہیں،مذاکرات کا ماحول پیدا کرنے کی ذمہ داری عمران خان پر ہے۔نجی ٹی وی سے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان آج بھی مذاکرات کے لیے ہم سے رابطے کر رہے ہیں تاہم جن ساتھیوں کو انہوں نے مذاکرات کا ٹاسک دیا ہے ان کو مینڈیٹ نہیں دیا۔سعد رفیق نے کہا عمران خان کے کچھ بے اختیار ساتھی مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں۔عمران خان نے نفرت کے بیج بوئے۔عمران خان کسی کو اختیار دیتے ہیں نہ اعتماد کرتے ہیں۔سپریم کورٹ کو پہلے آپس میں فیصلہ رکنا ہوگا کہ کون سا آرڈر قانونی ہے اور کون سا غیر قانونی۔جب قاضی پر عدم اعتماد ہو جائے تو اسے خود کیس سننے سے معذرت کر لینی چاہئیے۔سعد رفیق نے کہا کہ عمران خان جنرل باجوہ پر یک طرفہ الزامات لگا رہے ہیں۔ عمران خان اپنے ٹارگٹ رکھتا ہے اور جو ٹارگٹ پر ہوتا ہے اس کو دنیا کا بدترین انسان بنا دیتا ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ہم عمران خان کو سیاسی مخالف کہتے ہیں مگر وہ سب کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔مذاکرات کا ماحول پیدا کرنے کی ذمہ داری عمران خان پر ہے۔قبل ازیں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا تھا کہ آئین کہتا مردم شماری کے بعد الیکشن ہوگا،عمران خان سے کیسے بات کریں وہ تو 11ہزار وولٹ کا کرنٹ مارتے ہیں۔ سعد رفیق نے کہا کہ اگر کل الیکشن دو اسمبلیوں کا کروا دیتے ہیں تو نئی مردم شماری کے بعد ایک نئی لڑائی شروع ہوجائے گی، اگر پنجاب یا خیبر پختوانخواہ میں الیکشن ہوجائے تو جو بھی جیتے وہ وفاق کے انتخابات میں طاقت دکھائے گاپھر الیکشن کو کون مانے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت یا فوج کی ذمہ داری نہیں کہ الیکشن کیسے کروانا ہے بلکہ یہ سیاستدانوں کا کام ہے اب عمران خان سے کیسے بات کریں وہ تو آگے سے 11ہزار وولٹ کا کرنٹ مارتے ہیں۔
Load/Hide Comments



