سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا آج منگل کو سنابا جائے گا

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا آج منگل کو سنابا جائے گا دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا ء بندیال نے ریمارکس دیئے ہیں کہ سوال اٹھایا تھا کہ الیکشن کمیشن 8 اکتوبر کی تاریخ کیسے دے سکتا یے؟قانون کسی کو الیکشن ملتوی کرنے کا اختیار نہیں دیتا،عدالت ہی الیکشن کی تاریخ آگے بڑھا سکتی ہے،1988 میں بھی عدالت کے حکم پر انتخابات آگے بڑھائے گیے تھے،عدالت زمینی حقائق کا جائزہ لے کر حکم جاری کرتی ہے،کیا نئے بنچ کی تشکیل کے وقت چیف جسٹس کوئی بھی پانچ ججز شامل نہیں کرسکتے تھے؟چیف جسٹس پہلے والے اراکین شامل کرنے کے پابند نہیں تھے،جس عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے وہ اقلیتی ہے،تفصیلی اختلافی نوٹ بینچ کے ازسرنو تشکیل کا نقطہ شامل نہیں،اختلافی نوٹ کے مطابق چار ججز نے خود کو بینچ سے الگ کیا،بہتر طریقہ یہ تھا کہ لکھتے کہ چار ججز کو بینچ سے نکالا گیا،نو رکنی بینچ کے فیصلے میں کہیں نہیں لکھا کون رضاکارانہ الگ ہورہا ہے،کسی نے بینچ سے الگ ہونا ہو تو جوڈیشل آرڈر لکھا جاتا ہے،کوئی شق نہیں کہ جج کو بینچ سے نکالا نہیں جاسکتا،عدالت بینچ کی ازسرنو تشکیل کا حکم دے تو اسے نکالنا نہیں کہتے،ججز میں ہم آہنگی سپریم کورٹ کیلئے بہت اہم ہے،ججز کے بہت سے معاملات آپس کے ہوتے ہیں،عدالتی کاروائی پبلک ہوتی ہے لیکن ججز کی مشاورت نہیں،زیر حاشیہ میں بھی لکھا کہ دو ججز کی اراء ریکارڈ کا حصہ فیصلہ کا نہیں،ریکارڈ میں تو متفرق درخواستیں اور حکمنامے بھی شامل ہوئے ہیں،سرکلر سے کسی فیصلے کو واپس نہیں لیا گیا،فیصلے میں انتظامی ہدایات دی گئی تھیں،184/3 کے مقدمات کی سماعت روکنے کے معاملے پر سرکلر آیا ہے،سرکلر میں لکھا ہے کہ پانچ رکنی بنچ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی تھی،مقدمات سماعت کیلئے مقرر نہ کرنے کے انتظامی حکم پر سرکلر آیا ہے،جسٹس فائز عیسی کے فیصلے میں کوئی واضح حکم نہیں دیا گیا، فیصلہ میں لکھا ہے کہ مناسب ہوگا کہ 184/3 کے مقدمات کی سماعت روکی جائے،29 مارچ کے فیصلہ میں ہدایت نہیں بلکہ خواہش ظاہر کی گئی ہے،عوام کے مفادات میں مقدمات پر فیصلے ہونا ہیں ناں کہ سماعت موخر کرنے سے،فیصلہ میں تیسری کیٹگری بنیادی حقوق کی ہے،بنیادی حقوق تو 184/3 کے ہر مقدمے میں ہوتے ہیں،عدالت نے رواں سال میں پہلا سوموٹونوٹس لیا تھا،دو اسمبلیوں کے سپیکرز کی درخواستیں آئی تھیں،سپیکر ایوان کا محافظ ہوتا ہے،ازخود نوٹس کے لئے بنچ کا نوٹ بھی پڑا ہوا تھا،ازخودنوٹس لینے میں ہمیشہ بہت احتیاط کی ہے،اس بات سے متفق نہیں کہ یہ مقدمہ دیگر 184/3 کے مقدمات سے مختلف ہے،جن کے رولز بنے ہیں ان مقدمات پر کیسے کاروائی روک دیں؟184/3 کے دائرہ اختیار پر بہت سخت طریقہ کار بنایا ہوا ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ فیصلے پر دستخط کرنے والے جج نے خود کو بینچ سے الگ کرلیا،کیسے ہوسکتا ہے فیصلہ لکھنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ مقدمہ سنیں؟جسٹس امین الدین خان نے فیصلے پر صرف دستخط کیے تھے،سماعت سے معذرت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیصلہ ہوگا،سماعت سے انکار تو فرض نہیں کیا جاتا، یہ جوڈیشل آرڈر ہوتا ہے،تمام پندرہ ججز مختلف آراء اپنانے پر مقدمہ نہیں سن سکتے، وفاقی حکومت نے معاملہ فہم ہوتے ہوئے دوبارہ فل کورٹ کی استدعاء نہیں کی، زیادہ سے زیادہ استدعاء فل لارجر بینچ کی ہوسکتی ہے،کسی جج کو بینچ سے نکالا گیا نہ کوئی رضاکارانہ الگ ہوا،9 ارکان نے چیف جسٹس کو معاملہ بھجوایا،27 فروری کے نو ججز کے حکم نامے سے دکھائیں بینچ سے کون الگ ہوا؟عدالتی ریکارڈ کے مطابق کسی جج نے سماعت سے معذرت نہیں کی،جسٹس فائز عیسیٰ کا حکم خوبصورت لکھا گیا یے،فل کورٹ میٹنگ فائدہ مند ہو سکتی ہے لیکن فل بینچ نہیں،گزشتہ تین دن میں سینیر ججز سے ملاقاتیں کی ہیں،لارجر بینچ کے نکتے پر دلائل دینا چاہیں تو ضرور دیں،ایک فیصلہ تین رکنی اکثریت نے دیا ایک دو رکنی اقلیت نے،بنیادی اصول مقدمہ کی سماعت ہے،سنے بغیر فیصلہ محدود نوعیت کا ہی ہوسکتا ہے،سماعت کے بعد کیے گئے فیصلے کا ہی وجود ہوتا ہے،کورٹ فیس ادا نہ کرنے پر بھی تو مقدمہ خارج ہوجاتا یے،نظرثانی اکثریتی فیصلے کی ہوتی ہے،جن ججز کے نوٹ کا حوالہ دیا گیا کیا وہ پانچ رکنی بینچ میں تھے؟ اصل مسئلہ سیکیورٹی ایشو ہے،فورسز کا معاملہ صرف آرمی کا نہیں بلکہ نیوی اور ائیر فورس کا بھی ہے،بری فوج مصروف ہے تو نیوی اور ائیر فورس سے مدد لی جاسکتی ہے،الیکشن کمیشن کہتا ہے 50 فیصد پولنگ سٹیشنز محفوظ ہیں،فوج میں ہر یونٹ یا شعبہ جنگ کیلئے نہیں ہوتا،عدالت نے وہ کام کرنا ہے جو کھلی عدالت میں ہو،کوئی حساس چیز سامنے آئی تو چیمبر میں سن لیں گے،کوئی اکر کہے تو صحیح کہ کتنے سیکیورٹی اہلکاروں کی ضرورت ہے،سیکیورٹی اہلکار کون دے گا؟سوال یہ ہے کہ اٹھ اکتوبر کو کیسے سب ٹھیک ہو جائے گا؟کیا الیکشن کمیشن کو combat والے اہلکار درکار ہیں؟ سیکیورٹی سے متعلق رپورٹس حساس ہیں تو سر بمپر لفافوں میں فراہم کریں،جائزہ لے کر مواد واپس کر دیں گیے،کوئی سوال ہوا تو اسکا جواب مانگ لیا جائے گا،فوج کی بڑی تعداد بارڈرز پر بھی تعینات ہے،الیکشن ڈیوٹی کیلئے کمبیٹ اہلکاروں کی ضرورت نہیں ہوتی،الیکشن کل نہیں ہونے پورا شیڈول آئیگا،جن علاقوں میں سیکورٹی صورتحال حساس ہے ان کی نشاندہی کریں،الیکشن کمیشن نے پنتالیس فیصد پولنگ سٹیشنز کو حساس قرار دیا ہے،جھنگ ضلع پہلے حساس ہوتا تھا اب نہیں،جنوبی پنجاب اور کچے کا علاقہ بھی حساس تصور ہوتا ہے،حکومت ہچکچاہٹ کا شکار ہے،حکومت نے کہا کسی سے بات نہیں کریں گیے۔