اسلام آباد (آن لائن)صدر عارف علوی نے اعلی عدلیہ سے متعلق سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل 2023 کی منظوری سے قبل آئینی و قانونی ماہرین سے مشاورت شروع کردی جبکہ تحریک انصاف کے بعض قانونی رہنماؤں کے بھی صدر سے اس معاملے پر رابطوں کا انکشاف ہوا ہے، حکومت نے صدر کے دستخط نہ کرنے کی صورت میں پارلیمنٹ سے منظور کروانے کی منصوبہ بندی کرلی۔ذرائع نے بتایا کہ اعلیٰ عدلیہ سے متعلق سپریم کورٹ پریکٹس اور پروسیجر بل کی توثیق کا معاملے پر صدر عارف علوی نے آئینی و قانونی ماہرین سے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے،صدر نے آئینی و قانونی ماہرین سے متعدد سوالات پوچھے ہیں،کیا اس خود نوٹس سے متعلق آئین کے آرٹیکل 184/3میں قانون سے ترمیم کی جاسکتی؟اس وقت اس بل کو لانے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟صدر نے وفاقی وزارت قانون سے بھی رائے مانگی ہے جبکہ ایوان صدر کی قانونی ٹیم سے بھی صدر کی مشاورت جاری ہے،صدر سے تحریک انصاف کے بعض قانونی ماہرین کے رابطوں کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق صدرعارف علوی نے دستخط نہ کیے تو اپنی تجاویز کے ساتھ بل واپس حکومت کو 14 دن میں بھجوا دیں گے،حکومت نے صدر کی تجویز شامل نہ کی تو دوبارہ بل ایوان صدر آئے گا،صدر سات دن میں پھر دستخط نہیں کرتا تو معاملہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جائے گا مشترکہ اجلاس میں منظوری کے بعد بل پھر صدر کے پاس جائے گا،صدر نے دس دن میں دستخط نہ کیے تو بل از خود قانون بن جائے گا،حکومت نے صدر کے انکار کی صورت میں پہلے ہی مشترکہ اجلاس دس اپریل کو بلا رکھا ہے۔
Load/Hide Comments



