مشکل ترین معاشی حالات کے باوجود پاکستان کسی صورت ڈیفالٹ نہیں کرے گا،اسحاق ڈار

اسلام آباد(آن لائن) سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مشکل ترین معاشی حالات کے باوجود پاکستان کسی صورت ڈیفالٹ نہیں کرے گا انہوں نے کہاکہ ہمیں معیشت کے حوالے سے سیاسی اختلافات سے بالا تر ہوکر سوچنا ہوگا اجلاس کے دوران چیرمین سینیٹ نے مردم شماری کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے اعتراضات پر پورے ایوان کی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ جمعرات کے روز سینیٹ کا اجلاس چیرمین صادق سنجرانی کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا اجلاس کے آغاز میں وفقہ سوالات کے دوران سینیٹر بہرہ مند تنگی نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہاکہ کیا مردم شماری کے بغیر صوبوں میں انتخابات کرائے جا سکتے ہیں جس پر وزیر قانون نے کہاکہ چھٹی مردم شماری کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کے مابین ایک معاہدہ ہوا کہ انتخابات مردم شماری کے جزوی نتائج کے ساتھ کرائے جائیں اور یہ بھی معاہدہ ہوا کہ 2023کے انتخابات ڈیجیٹل مردم شماری کے تحت کرائے جائیں گے اور اس معاہدے پر تمام سیاسی جماعتوں نے دستخط کئے انہوں نے کہاکہ ڈیجیٹل مردم شماری کا آغاز یکم مارچ کو ہوچکا ہے اور یہ 30اپریل سے قبل ہی مکمل ہوجائے گی اس مردم شماری کیلئے 35ارب روپے مختص کئے گئے ہیں انہوں نے کہاکہ قومی اسمبلی کے انتخابات نئی مردم شماری سے کرانے کے حوالے سے سوال ابھی حل طلب ہے اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہاکہ 2017کی مردم شماری پر صوبوں کے اعتراضات تھے اب دوبارہ پریشان کن صورتحال یہ ہے کہ 35ارب روپے مختص کئے جانے کے باوجود عوام کے دلوں میں مردم شماری سے متعلق خدشات ہیں اور اس طرح کی مردم شماری کو کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا انہوں نے کہاکہمردم شماری کی تفصیلات سیاسی جماعتوں کے ساتھ شیئر کیا جائے انہوں نے کہاکہ مردم شماری کو شفاف اور قابل قبول بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں سینیٹر ہدایت اللہ نے کہاکہ قبائلی اضلاع کا ہمیشہ سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ کیا مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں ہونگی انہوں نے مردم شماری کے معاملے پر پورے ایوان کی کمیٹی بلانے کا مطالبہ کیا اس موقع پر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہاکہ 2017 کی مردم شماری پر صوبوں کی جانب سے بہت زیادہ اعتراضات آئے تھے اور ایک ایک گھر میں دو دو سو افراد لکھے گئے تھے انہوں نے کہاکہ مردم شماری کے معاملے میں تمام صوبوں اور سیاسی جماعتوں کے اعتراضات کو دور ہونا چاہیے انہوں نے کہاکہ موجودہ جدید دور میں مردم شماری کا بھی کوئی جدید طریقہ ڈھونڈنا چاہیے اس موقع پر چیرمین سینیٹ نے کہاکہ مردم شماری کے معاملے پر پورے ایوان کی کمیٹی اگلے ہفتے کے دوران بلائی جائے گی۔سینیٹر بہرہ مند تنگی کے موجودہ حکومت کے دور میں برآمدات میں اضافے کے حوالے سے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر نے کہاکہ بدقسمتی سے ہمارے حالات درست نہیں ہیں اور آئی ایم ایف کے پروگرام کی یہ شرائط ہیں کہ کسی بھی صنعت کو سبسڈی نہ دی جائے انہوں نے کہاکہ ہمیں صنعتی شعبے کو گیس اور بجلی کے شعبے میں دی جانے والی سبسڈی ختم کی گئی ہے اور اس سے برآمدات میں کمی ہوگی سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ صنعتی شعبے کو سابقہ دور میں دی جانے والی سہولیات کی وجہ سے برآمدات میں اضافہ ہوا ہے بتایا جائے کہ اس سال برآمدات میں کتنا اضافہ ہوگا جس پر وفاقی وزیر تجارت نے کہاکہ برآمدات میں اضافہ نہیں ہوگا بلکہ کمی ہوگی سینیٹر دلاور خان نے ضمنی سوال کیا کہ حکومت نے برآمدی شعبے کیلئے درآمدات پر بھی پابندی عائد کردی ہے جس پر وفاقی وزیر تجارت نے کہاکہ حکومت نے برآمدی شعبے کیلئے درآمدات پر پابندی ختم کردی ہے اور اس حوالے سے جو بھی مشکلات ہونگی اس کو حل کیا جائے گی سینیٹر ثمینہ ممتاز ذہری کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت نے کہاکہ ملک میں خوراک کے ذخائر کی وافر مقدار موجود ہے اور پاکستان غذائی قلت کا شکار نہیں ہے انہوں نے کہاکہ ضرورت سے زائد زرعی اجناس برآمد کی جائیں گی سینیٹر دنیش کمار کے چین سے درآمدات سے متعلق ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت نے کہاکہ چین کے ساتھ آزاد تجارت کا معاہدہ موجود ہے اس وقت چین سے درآمدات بہت زیادہ ہے ہمیں بھی اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا سینیٹر فدا محمد خان کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت نے کہاکہ ملک میں زرعی اجناس کی برآمدات میں اضافے کیلئے مراعات دے رہی ہیں سینیٹر محسن عزیز کے ضمنی سوال کاجواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہاکہ یہ درست ہے کہ ملک میں مہنگائی میں بہت اضافہ ہوا ہے اور گذشتہ 5سالوں کے دوران ہماری معیشت عالمی سطح پر بہت زیادہ نیچے چلی گئی ہے انہوں نے کہاکہ یہ ہماری نااہلی ہے جو گذشتہ 5سالوں کے دوران کی گئی ہے انہوں نے کہاکہ ملکی ترسیلات کے ذخائر اچھی حالت میں ہیں اور ہم نے عالمی معاہدوں کو پورا کیا ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان نے 5ارب ڈالر کی بین الاقوامی ادائیگیاں کردی ہیں انہوں نے کہاکہ وجودہ مشکل حالات کے باوجود ہمارے ذخائر میں بہتری آرہی ہے آئی ایم ایف کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات مکمل ہوچکے ہیں ہم جون تک اپنے ذخائر 13ارب تک لیکر جائیں گے انہوں نے کہاکہ ہمیں معیشت پر سیاست بند کرنی ہوگی اور تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر معیشت کے بارے میں سوچنا ہوگا سینیٹر دلاور خان کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہاکہ اسٹیٹ بنک کے حوالے سے ترامیم کے حق میں نہیں تھا اس وقت حکومت کا مانیٹری پالیسی میں کوئی کردار نہیں ہے اور اس پر اسٹیٹ بنک کا کنٹرول ہے انہوں نے کہاکہ اسٹیٹ بنک کے حوالے سے حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں سینیٹر فیصل جاوید نے کہاکہ ملکی معیشت اچھی طرح چل رہی تھی اور آج کیا صورتحال ہے جس پر وفاقی وزیر خزانہ نے کہاکہ ہمیں تحریک انصاف کی حکومت کا مسلم لیگ ن کی سابقہ حکومت کے موازنہ کرنا ہوگا اور اس پر بحث کریں گے سینیٹر دنیش کمار کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے قانون نے کہاکہ صوبوں میں مساجد اور سکولوں میں شمسی توانائی کے سسٹم لگانے کے بعد ان کی دیکھ بھال صوبوں کی ذمہ داری ہوتی ہے سینیٹر دلاؤر خان نے کہاکہ سابق دور حکومت میں قومی بھنگ پالیسی شروع کی گئی تھی اس حوالے سے اگاہ کیا جائے سینیٹر مشتاق احمد خان نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہاکہ بیرون ممالک سے درآمدات سمیت ترسیلات زر میں بھی کمی ہوئی ہے جس پر وفاقی وزیر تجارت نے کہاکہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ ہوسکے سینیٹر ڈاکٹر ہمایون مہمند کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت نے کہاکہ اس ایوان میں معیشت پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ موجودہ سخت حالات کے باوجود پاکستان کسی صورت ڈیفالٹ نہیں کرے گا اور ہم تمام واجبات بروقت ادا کریں گے۔اس موقع پر اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ موجودہ حکومت ملک کو تباہی کی سمت لیکر جارہے ہیں پہلے آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں اور اس کے بعد آئی ایم ایف کو آنکھیں دکھائی جاتی ہیں انہوں نے کہاکہ اس ایوان میں کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہے سب کا احترام ہونا چاہیے۔