ملکی تاریخ میں الیکشن تاریخ بڑھانے کی مثالیں موجود ہیں،چیف جسٹس آف پاکستان

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنجاب اور کے پی انتخابات ملتوی کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلہ کیخلاف پی ٹی آئی کی دائر درخواست کی سماعت کے موقع پر الیکشن کمیشن آف پاکستان،وفاق، پنجاب، کے پی حکومت سمیت گورنر کے پی کو بذریعہ سیکرٹری نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت آج منگل دن گیارہ بجے تک کیلئے ملتوی کر دی ہے۔ سوموار کو معاملہ کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے سوال اٹھایا کہ کیا الیکشن کمیشن صدر پاکستان کی دی گئی تاریخ کو ختم کر سکتا ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ کا کوئی فیصلہ نہیں،ملکی تاریخ میں الیکشن کی تاریخ بڑھانے کی مثالیں موجود ہیں،بے نظیر بھٹو کی شہادت پر بھی الیکشن تاخیر سے ہوئے،انتحابات صوبے کی عوام کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے،اس کیس میں اہم ایشوزشامل ہیں جس میں سے فیصلے پر عملدرآمد بھی ایک معاملہ ہے،بے نظیر بھٹو کی شہادت کے وقت تاریخ بڑھانے کو قومی سطح پر قبول کیا گیا،اس وقت تاریخ بڑھانے کے معاملے کو کئی چیلنج نہیں کیا گیا،1988میں نظام حکومت تبدیل ہونے کی وجہ سے الیکشن میں تاخیر ہوئی،دیکھنا ہو گا کیا آئین میں نگراں حکومت کی مدت کے تعین کی کوئی شق موجود ہے،الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 254 کا سہارا لیا ہے،کیا ایسے معاملے میں آرٹیکل 254 کا سہارا لیا جا سکتا ہے؟آرٹیکل 254 آئین میں دی گئی مدت کو تبدیل نہیں کر سکتا،آرٹیکل 254 آئین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیتا، جسٹس اعجاز الاحسن نے اس موقع پر ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن کا موقف تھا کہ وہ پولنگ کی تاریخ مقرر نہیں کر سکتا،اب الیکشن کمیشن نے پولنگ کی نئی تاریخ بھی دیدی ہے،کیا یہ الیکشن کمیشن کے موقف میں تضاد نہیں ہے؟پی ٹی آئی کی طرف سے اس موقع بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر موقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن نے صدر کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے نیا شیڈول جاری کیا،الیکشن کمیشن نے تین بار خلاف ورزیاں کیں،سپریم کورٹ نے یکم مارچ کو انتخابات کی تاریخ دینے کا فیصلہ دیا،الیکشن کمیشن نے 8مارچ کو پنجاب میں انتخاب کا شیڈول جاری کیا،گورنر کے پی نے عدالتی حکم کی عدولی کرتے ہوئے تاریخ کا اعلان نہیں کیا،الیکشن کمیشن نے صدر کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے نیا شیڈول جاری کیا۔جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ آپ عدالت سے کیا چاہتے ہیں؟ علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ آئین اور اپنے حکم پر عملدرآمد کرائے، جسٹس جمال مندوخیل نے اس موقع پر کہا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد ہائیکورٹ کا کام ہے، بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ فنڈز نہ ہونے کی وجہ مان لی تو الیکشن کبھی نہیں ہونگے،معاملہ صرف عدالتی احکامات کا نہیں،دو صوبوں کے الیکشن کا معاملہ ایک ہائی کورٹ نہیں سن سکتی،سپریم کورٹ اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کر چکی ہے،سپریم کورٹ کا اختیار اب بھی ختم نہیں ہوا، جسٹس منیب اختر نے اس موقع پر ریمارکس دیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے راستے میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ رکاوٹ بنا،سپریم کورٹ ہی بہتر فیصلہ کر سکتی ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں، بیرسٹر علی ظفر نے اس موقع پر موقف اپنایا کہ پنجاب اور کے پی کے عوام کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، کیا گارنٹی ہے کہ اکتوبر نیں سیکورٹی صورتحال بہتر ہو گی،یہ معاملہ نوے روز میں الیکشن کروانے سے بھی منسلک ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے اس موقع پر پوچھا کہ کیا صدر کی جانب سے دی گئی تاریخ نوے روز میں تھی یا نہیں، جس پر علی ظفر نے بتایا کہ 13 مارچ کو الیکشن کمیشن نے صدر کی دی گئی تاریخ کو منسوخ کر دیا،الیکشن کمیشن نے 8اکتوبر کو نئی تاریخ دی،الیکشن کمیشن کو نئی تاریخ دینے کا اختیار نہیں تھا،الیکشن کمیشن نے نوے روز کی مقررہ حد کی خلاف ورزی کی،ائین میں الیکشن کمیشن کو تاریخ دینے یا تبدیل کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیا گیا،نوے روز سے زیادہ کی تاریخ کی آئین اجازت نہیں دیتا،الیکشن کمیشن نے عدالتی فیصلے کو نظر انداز کیا، نگران حکومت کا مقاصد انتخابات ہوتا ہے جو 90 روز میں ہونا ہیں،ایسا نہیں ہو سکتا کہ الیکشن 90 دن سے پانچ ماہ آگے کر دئے جائیں، آرٹیکل 254 کا سہارا کام کرنے کے بعد لیا جا سکتا ہے،ایسا نہیں ہو سکتا کہ کام کرنے سے پہلے ہی سہارا لے لیا جائے۔عدالت عظمی اس موقع تمام متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے معاملہ کی سماعت منگل دن گیارہ بجے تک کئے ملتوی کر دی ہے.