لاہور (آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ انکا کوئی جر م نہیں لیکن پھر بھی وہ جیل جانے کے لیے تیار ہیں لیکن حکومت کے موجودہ اقدامات اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہمارے کوئی رابطے نہیں، نوازشریف پانامہ کیس میں جیل گئے تھے لیکن میرے اوپر مقدمات میں ایک بھی ثابت نہیں ہوگا۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کو انٹرویو میں عمران خان نے الزام لگایا کہ ان کی گرفتاری کی کوشش کی شکل میں وہ وعدے پورے کیے جا رہے ہیں جو موجودہ آرمی چیف کی تعیناتی کے موقع پر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف سے کیے گئے۔عمران خان نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر موجودہ حکومت کچھ نہیں کر سکتی اور انھیں افسوس ہے کہ آج فوج اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو آمنے سامنے لایا جا رہا ہے۔آج اسٹیبلشمنٹ ان کی پشت پناہی ختم کر دے تو یہ ایک دن بھی نہیں رہیں گے۔ مجھے افسوس ہے کہ نواز شریف سے آرمی چیف کی تعیناتی کے وقت جو وعدے کیے گئے وہ پورے کیے جا رہے ہیں۔ کونسا ملک ہے جو عوام اور فوج کے درمیان فاصلے پیدا کرتا ہے؟۔ عمران خان سے سوال کیا گیا کہ آخر موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ان کے خلاف ایسے اقدامات کرنے سے کیا حاصل ہو گا؟ عمران خان نے کہا کہ ’مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی۔ میں تو خود حیران ہوں کہ عجیب ماحول بن گیا ہے۔ مجھیآرمی چیف کی سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کیوں ان (پی ڈی ایم) کی پشت پناہی کر رہے ہیں؟ کیا انھیں سمجھ نہیں آ رہی کہ ادارے کو نقصان پہنچ رہا ہے؟۔’اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ ایسا کیوں ہے تو شاید نواز شریف سے کوئی وعدہ کیا ہو، وہ وعدہ پورا ہو رہا ہے۔ لیکن پاکستان کے لیے اس سے زیادہ ظلم کیا ہوگا؟۔عمران خان نے کہا کہ وہ جیل جانے کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے اپنے سیاسی مخالفین کے اس بیانیے کو مسترد کیا کہ وہ جیل جانے سے ڈر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کا انھیں یا ان کی سیاست کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ عمرا ن خان نے کہا کہ گرفتار کیے جانے کی صورت میں انھوں نے پارٹی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو روزانہ کی بنیادوں پرفیصلے کرے گی اور پارٹی چلائے گی۔عمران خان نے حراستی تشدد پر بھی بات کی اور کہا کہ ان کے حمایتی اس لیے ان کے گھر کے باہر موجود ہیں کہ ماضی میں ان کے پارٹی رہنماؤں کو رات کے اندھیرے میں اٹھایا گیا اور مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اس سوال پر کہ کیا انھیں ڈر ہے کہ انھیں گرفتاری کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے، عمران خان نے کہا ’مجھے نہیں پتا جیل میں کیا ہوگا، مگر میں تیار ہوں۔ انسان کو ہر چیز کے لیے تیار ہونا چاہیے۔‘ انھوں نے کہا کہ ابھی ان کے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے نہیں ہیں۔’(اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کی) کوئی کوشش نہیں کی جا رہی۔ ایک سیاسی جماعت ہمیشہ اپنے راستے کھولتی ہے۔ اور ہم چاہتے کیا تھے؟ ہم نے جنرل باجوہ سے مل کر یہی کہا تھا کہ الیکشن کروا لیں، ملک کو بچا لیں۔ معیشت جو بچا لیں، ہم نے کہا تھا کہ بحران سے نکلنے کا راستہ ایک ہی ہے، جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا، تب تک معیشت بہتر نہیں ہو گی۔ تو میں نے جنرل باجوہ کو بھی یہی کہا تھا اور موجودہ آرمی چیف کو بھی یہی پیغام بھجوا رہے ہیں۔ لیکن کیا ان کو سمجھ نہیں آ رہی؟ کیا انھیں وہ سب نظر نہیں آ رہا جو سب کے سامنے ہے؟‘
Load/Hide Comments



