اسلام آباد(آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ریاست کو بچانے کیلئے اپنی سیاست داؤ پر لگادی،11ماہ سے دیوالیہ پن ہونے کا ختم ہو گیا،عمران حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کی دھجیاں اڑا دیں،آئی ایم ایف کی کڑی شرائط تسلیم کرنے سے عام آدمی پر بوجھ پڑا،ا گر انتخابات وقت پر ہوں گے تو آئین،قانون اور ریاست جاندار ہو گی، ایک شخص خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے ریلیوں میں جانے کیلئے تیار ہے مگر انہیں عدالتوں میں جانا محال لگتاہے، پاکستان کو معاشی خارجی،سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔ بدھ کے روز سی پی این کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط تسلیم کرنے سے عام آدمی پر بوجھ پڑا ہے،آئی ایم ایف نے ہماری حکومت کو کہا کہ معاہد ے کو من و عن ماننا پڑے گا عمران حکومت نے حکومت کے خاتمے کے خوف سے آئی ایم ایف معاہدے کی دھجیاں اڑائیں اور آئی ایم ایف معاہدے سے پیچھے ہٹ گئی، آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ جلد ہو جائے گا اورپھر یہ معاملہ آئی ایم ایف بورڈ کے پاس جائے گا۔ آئی ایف معاہد اسٹیٹ کا معاہد ہ تھا، تاثر تھا کہ شہباز شریف حکومت نہیں چلا سکے گا لیکن بہتری کی طرفآگے بڑھ رہے ہیں، اجتماعی اتفاق رائے سے کفایت شعاری کی پالیسی طے کی گئی ہے، ان فیصلوں پر مثبت پیش رفت جارہی ہے، اگلے ہفتے میں اس حوالے سے اجلاس بھی طلب کررہا ہوں، یقین دلاتا ہوں کہ سنجیدگی کے ساتھ اس پر عملدرآمد جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب آیا وفاقی حکومت نے خالصتاً اپنے وسائل سے شفافیت کے ساتھ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور اینڈی ایم اے کے ذریعے سیلاب متاثرین کے لئے 100ارب روپے خرچ کئے،ہم ہر جگہ گئے۔جنیوا میں متاثرین کے لئے ہونے والی ڈونرزکانفرنس کے اعلانات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوشاں ہیں۔ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلہ آیا،جس میں لاکھوں گھرتباہ اور کروڑوں بے گھر ہوئے،ترکیہ پاکستان ایک ایسے رشتے میں جڑے ہوئے ہیں ان کے لئے امدادی سامان بھجوا رہے ہیں،ترکیہ میں خیموں کی زیادہ ضرورت ہے،شام میں خوراک،ادویات اور کپڑوں کی ضرورت ہے،پاکستان کے عوام اس پر اپنا حق ادا کرنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔ انتخابات سے متعلق ایک سوال پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بطور صدر مسلم لیگ (ن) میں اپنی پارٹی کو ہدایت دے چکا ہوں کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں فوراً کاغذات نامزدگی جمع کروادیے جائیں، بدقسمتی سے 75 سال میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ 2 صوبوں میں انتخابات ہورہے ہیں اور 2 صوبوں میں نہیں ہورہے، اس کے کیا نتائج نکلیں گے وہ وقت بتائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) سمیت کوئی بھی جماعت الیکشن سے فرار اختیار نہیں کرسکتی، اس لیے ہم اس پورے عمل میں بھرپور تعاون کررہے ہیں، الیکشن کمیشن جو بھی فیصلے کرے گا ہم اس کے ساتھ چلیں گے۔ ملک میں مردم شماری کا آغاز کر دیا گیا ہے فنڈ ز بھی فراہم کر دیئے گئے ہیں، گزشہ حکومت میں مشترکہ مفادات کونسل میں نئی مردم شماری کرانے کا فیصلہ ہو ا کیونکہ بعض سیاسی جماعتوں کو مردم شماری پر تحفظات تھے انتخابات میں بھرپور حصہ لیں کسی کو شک و شبہ نہیں ہو نا چاہے الیکشن وقت پر ہوں گے یہ ایک آئینی ضرورت ہے۔ا گر انتخابات وقت پر ہوں گے آئین،قانون اور ریاست جاندار ہو گی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے ریاست کو بچانے کیلئے اپنی سیاست داؤ پر لگادی، ایک شخص ریلیا ں نکالنے کیلئے تو تیار ہے لیکن عدالتوں میں جا نے کیلئے تیار نہیں ہے مسلم لیگ ن ہمیشہ عدالتوں کا احترام کرتی ہے میاں نواز شریف، مریم نواز،رانا ثناء اللہ سمیت مسلم لیک ن کی ساری قیادت عدالتوں میں پیش ہو تی رہی۔ نواز شریف پر جعلی مقدمات بنائے، رانا ثناء اللہ پر جعلی منشیات کاکیس بنایا گیا کیا اس وقت تو کسی نے ازخود نوٹس نہیں لیا رانا ثناء اللہ کو گھر کا کھانا نہیں ملتا تھا ہم نے تو کوئی شور نہیں ڈالا میں بیمار ہونے کے باوجود عدالتوں میں پیش ہو تا رہا ہم نے تو کوئی بہانا نہیں بنایا لیکن آج ایک شخص اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے، عمران خان کو عدالتوں سے نوٹسز جاری ہو رہے میں تو کچھ نہیں کر رہا،آج عدالتوں پر دھاوے اور ججز پر فقرے کسے جار ہے ہیں، میاں نواز شریف کو ایک اقامے کی بنیاد پر وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، عمران خان نے توشہ خانہ سے کروڑوں اربوں کے تحائف لیئے ہیں۔آج عمران خان اگر کہتا ہے کہ میں ایمان دار آدمی ہوں تو یہ سب سے ؓبڑ ا جھوٹ ہے۔ عمران خان نے اپنا گھر ریگولرائز کرا دیا اور لوگوں کے گھروں کو گرا دیا کیا یہ صادق و امین شخص ہے۔ تحائف لینے کا مسئلہ نہیں تحائف لے کر بیچ ڈالنا جرم ہے۔ توشہ خانہ کے تحائف سے متعلق قوانین بنا رہے کہ کوئی بھی 300 ڈالر سے زائد تحفہ نہیں رکھ سکے کا۔
Load/Hide Comments



