پنجاب،کے پی میں انتخابات کیلئے از خود نوٹس کیس،لارجر بینچ ٹوٹ گیا

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان میں پنجاب اور کے پی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انتخابات میں ممکنہ تاخیر سے متعلق لئے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے لئے مقرر لارجر بینچ ٹوٹ گیا، نو رکنی بینچ 4 ججز کی معذرت کے بعد پانچ رکنی رہ گیا۔بینچ میں چیف جسٹس کے ساتھ جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس منیب اختر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں۔ پیر کو از خود نوٹس کیس سماعت کے موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے نے ریمارکس دیئے کہ چار ججز نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا ہے،عدالت کا باقی بینچ آئین کی تشریح کیلئے سماعت جاری رکھے گا، آج منگل صبح ساڑھے نو بجے سماعت شروع کر کے اسی روز معاملہ نمٹائیں گے۔ ہمیں پارلیمنٹ کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، گورنر یا صدر کسی طریقہ کار کے تحت تاریخ دیں گے،آرٹیکل 57 کے مطابق صدر مملکت الیکشن کمیشن کی مشاورت سے تاریخ دے سکتے ہیں،ہمارا مقصد حالات اور واقعات کا تعین کرنا ہوتا ہے،کیا گورنر الیکشن کمیشن سے مشاورت کرنے کی پابند ہیں،اس کیس میں معاملہ اگر صدر کے پاس جاتا تو الیکشن کمیشن مشاورت کرتا،ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو گورنر سے مشاورت کرنے کی ہدایت کی،ہمارے لیے صرف یہ ایشو ہے کہ الیکشن کی تاریخ کس نے دینی ہے،90 دن 13 اپریل کو ختم ہورہے ہیں،میرے خیال میں گورنر کو اسی روز گورنر کو الیکشن کی تاریخ دینی ہے، ترکی میں الیکشن کو کچھ روز کیلئے آگے کیا گیا ہے،اگر تاریخ تبدیل ہو تو ترمیم شدہ شیڈول آئے گا،یہ نہیں ہوسکتا کی الیکشن شیڈول ملتوی کردیں، چیف جسٹس نے ابتداء میں کہا کہ جب تک حکم نامہ ویب سائٹ پر نہ آ جائے جاری نہیں کر سکتے،جسٹس جمال خان مندوخیل کا نوٹ حکم نامے سے ہہلے سوشل میڈیا پر آیا،احتیاط کرینگے آئندہ ایسا نہ ہو۔سوموار کو مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی تو ابتداء میں بیرسٹر علی ظفر نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ وزیراعلی پنجاب نے اسمبلی تحلیلی کرنے کی سمری گورنر کو ارسال اسمبلی تحلیل کرنے کے پاپند تھے لیکن نہیں کی،گورنر کے انکار پر 48 گھنٹے میں اسمبلی ازخود تحلیل ہوئی،کوئی آئینی عہدیدار نوے دن سے زیادہ انتخابات میں تاخیر نہیں کر سکتا،نوے دن کا وقت چودہ جنوری سے شروع ہو چکا ہے، گورنر پنجاب نے نگران وزیراعلی کیلئے دونوں فریقین سے نام مانگے،نام پے اتفاق نہ ہوا تو الیکشن کمیشن نے نگران وزیر اعلی لگایا اس کے بعد الیکشن کمیشن نے خط لکھ کر گورنر کو الیکشن کی تاریخ دینے کاکہاجس پرگورنر نے جواب دیاکہ انہوں نیاسمبلی تحلیل نہیں کی تو تاریخ کیسے دیں۔ بیرسٹر علی ظفر نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ آئین کے مطابق 90 دن میں اسمبلی کی تحلیل کے بعد الیکشن لازمی ہیں۔نوے روز کیاندر انتخابات پر تمام ادارے متفق ہیں جوکہ آئین کا منشا ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے اس موقع پر ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 54کا عرصہ الیکشن کمیشن اوراسکی تیاری کے دوران کا ہوتا ہے،مگر الیکشن کمیشن نے تاریخ نہیں دی،اسکا مطلب ہے الیکشن کمیشن تیار تھا،کیا الیکشن کمیشن تاریخ دے سکتا ہے،دیکھنا ہو گا اس حوالے سے قانون کیا کہتا ہے،اگراسمبلی گورنر نے نہیں توڑی اور48گھنٹے میں اسمبلی خود ٹوٹ گئی،تو کیا الیکشن کمیشن الیکشن کی تاریخ دے سکتا ہے یا یہ فیصلہ کون کرے گا،کہا ای سی پی اس مدت میں توسیع کر سکتا ہے،ہماری معاونت کرے، بیرسٹر علی ظفر نے اس موقع پر موقف اپنایا کہ کوئی ایک گھنٹے کیلیے بھی اس مدت میں توسیع نہیں کرسکتا، 105جی اسی صورتحال سے متعلقہ ہے،گورنر کے مطابق 208چار کے تحت یہ تاریخ الیکشن کمیشن یاکوئی اوراتھارٹی دے گی،عدالت عالیہ کی طرف سے مجھے ہدایت دی گئی ہے کہ سیکیورٹی اورمعاشی صورتحال کے تحت گورنر سے مشورہ کیا جائے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے اس موقع پر کہا ہائیکورٹ کا یہ حکم لازمی قابل پابندی نہیں ہے، مختصر یہ ہے کہ گورنر تاریخ دینے سے انکار کردیا،الیکشن کمیشن نے خط کا جواب دے دیا ہے، اب بال آپ کے کورٹ میں ہے، پی ٹی آئی کے کونسل نے کہا کہ آرٹیکل 108اور109کے تحت الیکشن کمیشن الیکشن کروانے کا پابند ہے، الیکشن کمیشن نے ہائی کورٹ کے حکم کا احترام نہیں کیا، جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا توہین عدالت کی آپشن کیا استعمال کی گئی۔جس پر وکیل اظہر صدیق نے بتایا کہ14 فروری کو توہین عدالت دائر کی گئی، توہین عدالت کی درخواست پر الیکشن کمیشن سے جواب مانگا گیا.