پرویز مشرف سابق صدر، سابق جوائنٹ چیفس اور آرمی چیف رہے ہیں،اللہ مرحوم کو غریق رحمت کرے،آئی ایس پی آر

راولپنڈی(آن لائن)پاکستان کی عسکری قیادت نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے انتقال پر اظہارِ تعزیت کیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پرویز مشرف سابق صدر، سابق جوائنٹ چیفس اور آرمی چیف رہے ہیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے سابق صدر پرویز مشرف کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔چیئرمین جوائنٹ چیفس ا?ف اسٹاف کمیٹی اور آرمی چیف نے تعزیتی بیان میں دعا کی ہے کہ کہ اللّٰہ مرحوم جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو غریقِ رحمت کرے (آمین)۔واضح رہے کہ پاکستان کے دسویں صدر جنرل پرویز مشرف 11 اگست 1943ء کو دہلی میں پیدا ہوئے، 1964 میں پاکستان کی بری فوج میں شامل ہوئے اور 1965 اور 1971کی جنگوں میں شریک ہوئے۔7 اکتوبر 1998 کو بری فوج کے چیف آف اسٹاف کے منصب پر فائز ہوئے۔پرویز مشرف کا بچپن ترکی میں گزرا۔ یہ 1949 سے 1956 تک کا زمانہ تھا جب ان کے والد ترکی کے شہر انقرہ میں تعینات تھے۔1961 میں پرویز مشرف پاکستان ملٹری اکیڈمی کا حصّہ بنے اور 1964 میں سیکنڈ لیفٹننٹ کے عہدے پر ترقی کی۔1965میں پاک بھارت جنگ ہوئی جس کے بعد پرویز مشرف ان افسران میں سے تھے جنھیں بہادری کی اعزازی سند دی گئی۔1971 کی جنگ کے دوران پرویز مشرف کمپنی کمانڈر کی حیثیت سے فوج میں خدمات انجام دے رہے تھے۔1991 میں انھیں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔7 اکتوبر 1998 کو چیف ا?ف ا?رمی اسٹاف اور 9 اپریل 1999 کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مقرر ہوئے۔12 اکتوبر 1999 پاکستان کی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہوا جب اس وقت کے وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے پرویز مشرف کو فوج کے سربراہ کے عہدے سے ہٹاکر نئے ا?رمی چیف کا اعلان کیا، مگر ان کی معزولی کے بعد پرویز مشرف نے ملک کا اقتدار سنبھالا۔20 جون 2001 کو پرویز مشرف ملک کے صدر بنے۔30 اپریل 2002 کو ملک میں پرویز مشرف کے حق میں ایک ریفرنڈم کا انعقاد کروایا گیا۔2003 میں پرویز مشرف پر دو قاتلانہ حملے بھی ہوئے۔ستمبر 2006 میں پرویز مشرف کی خودنوشت ان دی لائن آف فائر منظرِ عام پر آئی۔پرویز مشرف نے 18 اگست کو قوم سے خطاب میں اپنے مستعفی ہو نے کا اعلان کیا تھا۔ عہدہ صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد پرویز مشرف ملک سے باہر چلے گئے تاہم 2013 میں وہ وطن واپس آئے جہاں انہیں آئین سے غداری سمیت کئی مقدمات کا سامنا ہے۔