سینیٹ اجلاس، دہشت گردی کی لہر اور پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ پر اراکین سینیٹ کے شدید تحفظات

اسلام آباد(آن لائن)ایوان بالا میں حالیہ دہشت گردی کی لہر اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ پر اراکین سینیٹ کے شدید تحفظات، پشاور سانحہ کو حکومتی ناکامی قرار دینے پر حکومت و اپوزیشن اراکین میں تلخ کلامی،حکومتی اراکین نے اپوزیشن کی پشاور سانحہ پر تنقید کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سیاست چھوڑیں پشاور واقعے پر بات کریں،چیئر مین سینیٹ نے سائبر سیکیورٹی کا معاملہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔ منگل کو جاری اجلاس کے دوران سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ اوگرا نے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے پاکستانی عوام کو لوٹا،خیبرپختونخوا میں پلاسٹک کے شاپر بیگ میں گیس جمع کرنے کا سلسلہ ایٹم بم کے مترادف ہے،میرا تو دل نہیں کرتا کہ اوگرا سے کوئی سوال پوچھوں، ملک کی سائبر سیکیورٹی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے،میں نے جو سوال بھیجا اس پر حکومت نے تسلی بخش جواب نہیں دیا،ہمارے بنک، سرکاری ادارے اور سفارتخانے سب کی سائبر سیکیورٹی غیر محفوظ ہے،سینیٹر سیف اللہ آبڑو نے کہا کہ پشاور دہشتگردی واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے،افسوس کا مقام ہے کہ ابھی تک ان لاشوں کی تدفین نہیں ہوئی اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی جا رہی ہے،عمران خان کے علاوہ ان کو کوئی آدمی نہیں ملتا جس پر تنقید کی جائے،یہ تو ٹی ٹی پی کو بھی عمران خان کے ساتھ جوڑ رہے تھے،ان کی کابینہ تو دیکھیں 77 تک پہنچ گئی ہے،ن لیگ سے تو یہی امید تھی مگر پیپلز پارٹی والے بھی ان کے پیچھے لگ گئے ہیں، سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ مسجد کے اندر حملہ کی جتنی بھی مزمت کی جائے کم ہے،اتنے محفوظ علاقے میں حملہ بظاہر سیکورٹی اداروں کی ناکامی لگتی ہے،برسوں سے چلنے والی پالیسی ناکام ہو گئی ہے اسے بدلنے کی ضرورت ہے، سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ میرا تمام سیاسی جماعتوں سے ایک بڑا گلہ ہے،دہشتگردی دن بدن بڑھ رہی ہے مگر سیاسی جماعتوں کو سیاست کے علاوہ کچھ نہیں کر رہے،سب اسی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں کہ الیکشن 90 روز میں ہوں گے کہ نہیں،تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر قومی مزاکرات کرنے ہوں گے،اس سے پہلے بھی ہم مذمتی اجلاس کر چکے مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔