اسلام آباد (آن لائن)ایم کیو ایم کے وفاقی حکومت سے نکلنے کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی وزیراعظم کو 342 کے ایوان میں 181 اراکین کا اعتماد حاصل ہے۔ تاہم ایم کیو ایم نے وفاقی حکومت کا حصہ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔پارلیمانی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کے حوالے سے آئین کیآرٹیکل 91 کی شق 7 بہت واضح ہے جس کے تحت صدر جب یہ سمجھے کہ وزیر اعظم کو ایوان کے مجموعی اراکین کی اکثریت کا اعتماد حاصل نہیں رہا تو وہ وزیر اعظم کو اکثریت ثابت کرنے کیلیے کہے گا وزیراعظم شہباز شریف کو اس وقت 342 کے ایوان میں مجموعی طور پر 181 اراکین کی حمایت حاصل ہے جس میں مسلم لیگ ن کے 85،پیپلز پارٹی کے 58،متحدہ مجلس عمل کے 15،ایم کیو ایم کے 7،باپ اور بی این پی کے 4,4،مسلم لیگ ق کے 2،جمہوری وطن پارٹی اور اے این پی کا ایک ایک جبکہ چار آزاد اراکین بھی حکومت کے حامی ہیں۔دوسری طرف تحریک انصاف کو اپنے باغی اراکین بھی ساتھ ملا کر ایوان میں 150 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔نمبرز گیم میں وزیراعظم اور اتحادیوں کو واضح برتری ہے اعتماد کے ووٹ کیلئے 172 اراکین کی ضرورت ہوتی ہے اگرایم کیو ایم کے 7 اراکین حکومت چھوڑ بھی دیتے تو بھی شہباز شریف کو 174 اراکین کا اعتماد ہوگا، اس وقت دس نشستیں خالی ہیں جبکہ الیکشن کمیشن نے ان نشستوں پر ضمنی الیکشن لڑنے والے عمران خان کو نا اہل قرار دے رکھا ہے اور باقی نشستوں پر ان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن بھی روک رکھا ہے قومی اسمبلی کی ایک نشست جعفر خان لغاری کے انتقال کے باعث خالی ہے جہاں ضمنی انتخاب ہوگا۔
Load/Hide Comments



