ملک میں جاری بحران کا ذمہ دار جنرل (ر) قمر جاوید باجو ہ ہیں،عمران خان

کراچی(آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں جاری بحران کا ذمہ دار جنرل (ر) قمر جاوید باجو ہ ہیں، ملک میں بحران پیدا ہونیوالا ہے 7 ماہ پہلے پیشگوئی کی تھی، آج پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بحران ہے، 20 برس سے دو خاندان ایک دوسرے کو چور کہتے رہے اور ملک کو لوٹتے رہے، 90کی دہائی سے پاکستان ہمیشہ آگے تھا، پاکستان کی تاریخ میں ہم نے وہ کامیابی حاصل کی تھی جو کسی نے حاصل نہیں کی، سب کو ملکر جدوجہد کر کے اس ملک کو نکالنا ہے، ہم ملک کو اس دلدل سے نکالنے کیلئے کام کر رہے ہیں، ملک کو اس دلدل سے کوئی ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ نہیں نکال سکتا، ہم اس ملک میں سب سے پہلے صاف شفاف انتخابات چاہتے ہیں، سارے اداروں کو کہہ رہا ہوں کہ پاکستان ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا، پاکستان اس طرف جارہاہے جہاں سری لنکا پہنچ گیا تھا۔ تفصیل کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کراچی میں خواتین کنونشن کا اہتمام کیا گیا جہاں کراچی کی بڑی تعداد میں خواتین نے شرکت کی، کنونشن سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب میں پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان نے کہا کہ ملکی تاریخ میں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جو تاریخ میں فیصلہ کن مرحلے ہوتے ہیں،جہاں ملک تباہی یا پھر عروج کی طرف جاسکتا ہے،پاکستان ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ بحران سے گزررہا ہے،ہماری زندگی میں بنگلادئش اس ملک سے الگ ہوا ہمیں آج بھی یاد ہے وہ بھی ایک بحران تھا، مگر ملک جو بحران اب آیا ہے وہ تشویشناک ہے،عمران خان نے کہاکہ وہ کون تھا یہ اب سب جانتے ہیں،اس بحران کی پیشگوئی 7 ماہ پہلے میں نے کی،اللہ نے مجھے غیب کا علم نہیں دیا مگر پاکستان کی تاریخ سے واقف ہوں، جنہیں ملک پر مسلط کیا گیا ان پر کرپشن کی کتابیں لکھی گئیں ہیں، عالمی جریدوں میں ان کی کرپشن پر آرٹیکل لکھے،20 سال یہ لوگ ایک دوسرے کو چور کہتے رہے،ان دو خاندانوں کی وجہ سے 90 کی دہائی میں ہندوستان ہم سے آگے نکلا، ان کی پارٹنرشپ سے پاکستان پیچھے رہ گیا، ہماری جدوجہد پر پاکستان کا مستقبل ہے،ہمیں لوگوں میں شعور پیدا کرنا ہے جس میں ہم کامیاب ہوئے،عوامی شعور سے ہی بحران سے نکلا جاسکتا ہے،آج قوم صرف آپ کی طرف دیکھ رہی ہے،قوم کو صرف پی ٹی آئی کی جماعت نظر آرہی ہے،آج ہم جہاں کھڑے ہیں اس کے یچھے جنرل باجوہ کا ہاتھ ہے،ہمیں بینک کرپٹ ملک ملا، سابق آرمی چیف کو معاشی صورتحال کے حوالے سے شوکت ترین نے سمجھایا تھا۔ہمیں جب حکومت ملی تو خزانے میں 8ارب ڈالر تھیاسحاق ڈار نے ڈالر کو مصنوعی طور پر کنٹرول رکھا،ان کی خوش قسمتی تھی کہ ان کے دور میں تیل کی قیمتیں عالمی سطح پر کم تھیں،ان کی دکھائی گئی ترقی صرف اشتہارات میں ہوتی ہے،صحافیوں کو پیسہ کھلاکر میڈیا ہاؤسز خریدکر ہوتی ہے،آج یہ بھکاریوں کی طرح پھر رہے ہیں، ہماری حکومت کے معاشی اشاریئے مثبت تھے، پاکستان کی تاریخ میں ہم نے وہ کامیابیاں حاصل کیں جس کی مثال نہیں ملتی،ہم منصوبہ بندی کررہے ہیں کہ ملک کو بحران سے کیسینکالنا ہے،ملک کو دلدل سے نکالنے کیلئے انقلابی اقدام اٹھانے ہوں گے،ملک کی اسٹیبلشمنٹ نے ماضی سے سبق حاصل نہیں لیا،ایم کیوایم کو اکھٹا، پنجاب میں ن لیگ کو لایا جارہا ہے۔پالیٹیکل انجینرنگ کرکے کمزور سیٹپ لایا جارہا ہے۔ ملک کے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نہیں ہوگا تو معیشت کیسے سنبھالے گیں،ملک کا مستقبل خطرے میں ڈال کر عوام کو قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ پی ڈی ایم کے ریلو کٹو کو کچھ سمجھ نہیں۔ ملکی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا،منی لانڈرنگ کرکے ملک کو تباہ کیا گیا،اپنی چوری کو بچانے کیلئے کرپشن کو لائسنس دیدیا گیا۔ پٹواریوں کی چوری ملک کو تباہ نہیں کرتی،ملک کو وائٹ کالر کرائم تباہ کرتا ہے۔ غربت ذدہ ملکوں میں وائٹ کالر کرائم عام ہے،آف شور یا پھر لندن بینک اکاؤنٹ میں ملک کا پیسہ رکھا جاتا ہے،یہ وقت جدوجہد کا ہے،ہم بیلٹ باکس کے ذریے پرامن انقلاب لانا چاہتے ہیں،تمام اداروں کو کہتا ہوں کہ پاکستان ہمارے ہاتھوں سے نکل جائیگا،ملک سری لنکا کیحالات اختیار کررہا ہے،لوگ آٹے کی حصول کیلئے اپنی جانوں سے جارہے ہیں،اب عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کم ہیں تو کیا وجہ سے اشیاخردونوش کی قیمتیں آسمانوں پر چلی گئیں،ہمارے بیرونی دشمن پاکستان کو ٹکڑوں میں کمزور کرنا چاہتے ہیں،ہم کسی کی سپورٹ نہیں بس شفاف انتخابات مانگ رہے ہیں، چیلنج کرتا ہوں کسی سے بھی پوچھلیں اس دلدل سے نکلنے کا واحد راستہ الیکشن ہے،اسٹیبلشمنٹ کی پالیٹیکل انجینرنگ سے پاکستان کو نقصان ہوا ہے،کراچی کی خواتین سے کہتا ہوں یہ سیاست نہیں جہاد ہے،اپ اپنی ذات کیلئے نہیں ملک کیلیے نکل رہی ہیں،جتنے دن امپورٹڈحکومت بیٹھی رہے گی بحران بڑھتا رہیگا،کسی کیپاس حل سییں ہے، ملک دن بہ دن نیچیجارہا ہے،یہ جس دن سے آئے معیشت تباہ ہوگئی.