اسلام آباد (آن لائن)سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی آرمی چیف ایسا نہیں آئے گا جو ادارے ریاست اور عوام کی آواز کے خلاف جائے۔لاہور میں سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز سے ملاقات کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے میں پیچھے ہٹ کر سب دیکھ رہے ہیں، نوازشریف چاہتے ہیں ایسا چیف آئے جو ان کے معاملات اور کیسز کا خیال رکھے لیکن کوئی آرمی چیف ایسا نہیں آئے گا جو ادارے ریاست اور عوام کی آواز کے خلاف جائے۔امریکا سے لڑائی نہیں مثبت اور بہتر تعلقات چاہتے ہیں، امریکا کے معاملے میں ذاتی مفاد کو قومی ترجیحات پر فوقیت دونگا، مذاکراتی کمیٹی کا مذاکرات کے لیے پیغام آیا لیکن میں نے انکار کردیا، مذاکراتی کمیٹی سے کہا کہ الیکشن کی تاریخ دو پھر آگے بات ہوگی۔انہوں نے کہا کہ حقیقی آزادی کی تحریک اپنے اثرات نمایاں کررہی ہے،قوم کی بیداری، شعور اور تحریک امپورٹڈ سرکار اور سہولتکاروں کے عزائم کی تکمیل کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہے، جبر، فسطائیت اور دستوری حقوق کی بدترین پامالی کے ذریعے قوم کو جھکانے کی کوششیں ناکام ثابت ہورہی ہیں، میرے قتل اور حقیقی آزادی مارچ کو خون میں نہلا کر رستہ صاف کرنے کی کوششیں اللہ کے فضل سے خاک میں ملیں، قوم کی حقیقی آزادی کی تحریک کو نقصان پہنچانے کیلئے ریاستی سطح پر جھوٹ اور بہتان تراشی کی مہم تیار کی گئی ہے،انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ کیس پر دبئی، لندن اور پاکستان میں متعلقہ افراد کے خلاف کیس کریں گے، توشہ خانہ کیس میں سامان اسلام آباد میں فروخت کیا رسیدیں اور تاریخ موجود ہیں، توشہ خانہ سے متعلق جب گواہی میں جائیں گے کیس ختم ہوجائے گا، عالمی سطح پر مطلوب مجرم اور مشہورِ زمانہ دھوکے باز کو میدان میں اتارا گیا ہے، دھوکے باز کی تراشی گئی بیبنیاد اور من گھڑت کہانی پر جھوٹے پراپیگنڈے کا مینار کھڑا کرنے والے کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے، انہوں نے کہا کہ میزبان، چینل اور عالمی سطح پر مطلوب مجرم کیخلاف پاکستان ہی نہیں برطانیہ اور امارات میں بھی قانونی چارہ جوئی کریں گے، کرپشن، منی لانڈرنگ اور ملک کو بدعنوانی کی لعنت کا شکار کرنے والوں کو مسلط کرکے قوم کو انکی اطاعت پر مجبور کیا جارہا ہے،سازش و جبر کا ہر سطح پر مقابلہ کیا، آئندہ بھی پوری قوت سے سامنا کریں گے،قوم حقیقی آزادی کے قافلوں میں نکل رہی ہے، راولپنڈی میں تاریخ کا سب سے بڑا انسانی کا سمندر امڈ رہا ہے، پرامن جمہوری جدوجہد کے ذریعے نظام پر مسلط بیمہار گروہ سے قوم کو آزاد کریں گے، عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے ذریعے ملک و قوم کو معاشی و سیاسی پستیوں سے نکالیں گے، آئین کے تابع ریاستی ادارے وقت کی نزاکت کا احساس، قوم کی خواہشات کی احترام کریں،فوری صاف شفاف انتخابات کا انعقاد تیزی سے مسلط ہوتی تباہی کے قدم روکنے کیلئے ناگزیر ہیں۔
Load/Hide Comments



