اسلام آباد (آن لائن)وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت میں آئے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ حکومت رہے گی یا نہیں، اگر ٹیکس ٹوجی ڈی پی 15 فیصد کرلیں تو ہرجگہ پیسے نہیں مانگنے پڑیں گے، اس وقت ٹیکس ٹو جی ڈی پی سوا 9 فیصد تک ہے۔ انہوں نے چیمبرز آف کامرس لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک مسائل میں گھرا ہوا ہے، جب ہمیں جائیں گے تو یہ نہیں کہیں گے کہ ہمیں معلوم نہیں تھا، ہمیں اسی دنیا میں رہنا ہے جو ہے، آئی ایم پروگرام میں نہ جاتے تو بینک کرپٹ ہوتے، ساڑھے چار پانچ ڈالر میں ملنے والی گیس اب 40 ڈالر میں ملتی ہے، فرنس آئل اور کوئلہ بھی مہنگا ہو گیا، پرانی دنیا میں نہیں رہ سکتے، ڈیزل پر آج ساڑھے سات روپے ٹیکس ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ 24 بلین ڈالرز باہر دینے تھے جبکہ ہمیں 36 بلین ڈالرز کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم جب حکومت میں آئے تو نہیں معلوم تھا کہ حکومت رہے گی یا نہیں، یہ بھی سوچا کہ شاید نگران حکومت آجائے گی، پھر پتہ چلا نگران سیٹ اپ آ گیا تو آئی ایم ایف پروگرام مکمل نہیں ہو گا، ہم نے بجلی کی پیداوار بڑھا کر بھی کوئی فائدہ مند کام نہیں کیا، اگر بجٹ خسارہ 5 ہزار 500 ارب ہوگا یہ کیسے پورا ہو گا، پاکستانی جتنی سیونگ کرتے ہیں اتنی ہی سرمایہ کاری کر دیتے ہیں، سری لنکا کی قومی بچت 28 فیصد اور ہماری 12فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم آئی ایم ایف کے پاس نہ جاتے تو ملک دیوالیہ ہوجاتا، آئی ایم ایف پروگرام میں نہ جاتے تو بینک کرپٹ ہوتے، ٹیکس بڑھانے پر مجھے کوئی خوشی نہیں ملتی کیوں کہ میں بھی تاجر ہوں، گزشتہ چار سال میں بجلی کے منصوبے پر کام نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یواے ای اور سعودی عرب سے ہم سستا تیل بھیج رہے تھے، دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، میری کوشش تھی کہ ریٹلرز پر تھوڑا ٹیکس لگا دیں۔ وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ چین نے پیسے بچائے اور ہمیں پاور پلانٹ خرید کر دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹیکس ٹو جی ڈی پی 15 فیصد کرلیں تو پیسے نہیں مانگنے پڑیں گے، پاکستان کا اس وقت ٹیکس ٹو جی ڈی پی سوا 9 فیصد تک ہے۔
Load/Hide Comments



