عمران خان نے معافی مانگ لی

اسلام آباد (آن لائن)چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے خاتون جج کو دھمکیاں دینے پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے معافی مانگ لی۔عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی روک دی اوردوبارہ بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیدیا۔جمعرات کے روز چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے سماعت کی، بینچ میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار شامل تھے، عدالتی معاونین مخدوم علی خان اور منیر اے ملک بھی عدالت میں موجود تھے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آج ملزم پر فرد جرم عائد کی جائے گی،ہم فرد جرم پڑھ کرنا سنانا چاہتے ہیں۔اس دوران حامد خان نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان کچھ کہنا چاہتے ہیں روسٹرم پر آنے کی اجازت دی جائے،چیف جسٹس نے عمران خان کو رسٹرم پر بلا لیا اور کہا کہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ صرف ایک منٹ عدالت کا لینا چاہتا ہوں،میری 25 سالہ سیاسی کیئریئر رول آف لاء کیلئے ہے، خاتون جج کو دھمکانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا،عدالت کو اگر لگتا ہے کہ میں نے اپنی حد پار کی ہے تو معافی مانگتا ہوں،اوریقین دلاتا ہوں کہ میں اور میری پارٹی کی طرف سے خاتون جج کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا،خاتون جج کے پاس جا کر بھی معافی مانگنے کیلئے تیار ہوں، یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ ایسی کوئی بات نہیں کرونگا،جیسے جیسے مقدمہ آگے چلا ہے مجھے اس کیس کی سنجیدگی کا احساس ہوا ہے،اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہمارے لیے توہین عدالت کارروائی کرنا مناسب نہیں ہوتا،ہم فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی روک رہے ہیں،خاتون جج کے پاس جانا یا نہیں جانا آپ کا ذاتی فیصلہ ہوگا، اگر آپ کو غلطی کا احساس ہوگیا اور معافی کے لیے تیار ہیں تو یہ کافی ہے۔عمران خان کے معافی مانگنے کے الفاظ کو سراہتے ہیں اور عمران خان کے بیان حلفی کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔ عمران خان نے کہا کہ کیا بیان حلفی کے علاوہ عدالت کو مطمئن کرنے کا کوئی آپشن موجود ہے؟ جس پر چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جو کچھ آپ نے کہا ہے عدالت نے آپ کویہ سب کہنے کا نہیں کہاتھا،آپ کو بیان حلفیاسلام آباد (آن لائن)چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے خاتون جج کو دھمکیاں دینے پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے معافی مانگ لی۔عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی روک دی اوردوبارہ بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیدیا۔جمعرات کے روز چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے سماعت کی، بینچ میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار شامل تھے، عدالتی معاونین مخدوم علی خان اور منیر اے ملک بھی عدالت میں موجود تھے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آج ملزم پر فرد جرم عائد کی جائے گی،ہم فرد جرم پڑھ کرنا سنانا چاہتے ہیں۔اس دوران حامد خان نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان کچھ کہنا چاہتے ہیں روسٹرم پر آنے کی اجازت دی جائے،چیف جسٹس نے عمران خان کو رسٹرم پر بلا لیا اور کہا کہ کیا کہنا چاہتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ صرف ایک منٹ عدالت کا لینا چاہتا ہوں،میری 25 سالہ سیاسی کیئریئر رول آف لاء کیلئے ہے، خاتون جج کو دھمکانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا،عدالت کو اگر لگتا ہے کہ میں نے اپنی حد پار کی ہے تو معافی مانگتا ہوں،اوریقین دلاتا ہوں کہ میں اور میری پارٹی کی طرف سے خاتون جج کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا،خاتون جج کے پاس جا کر بھی معافی مانگنے کیلئے تیار ہوں، یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ ایسی کوئی بات نہیں کرونگا،جیسے جیسے مقدمہ آگے چلا ہے مجھے اس کیس کی سنجیدگی کا احساس ہوا ہے،اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہمارے لیے توہین عدالت کارروائی کرنا مناسب نہیں ہوتا،ہم فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی روک رہے ہیں،خاتون جج کے پاس جانا یا نہیں جانا آپ کا ذاتی فیصلہ ہوگا، اگر آپ کو غلطی کا احساس ہوگیا اور معافی کے لیے تیار ہیں تو یہ کافی ہے۔عمران خان کے معافی مانگنے کے الفاظ کو سراہتے ہیں اور عمران خان کے بیان حلفی کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔ عمران خان نے کہا کہ کیا بیان حلفی کے علاوہ عدالت کو مطمئن کرنے کا کوئی آپشن موجود ہے؟ جس پر چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ جو کچھ آپ نے کہا ہے عدالت نے آپ کویہ سب کہنے کا نہیں کہاتھا،آپ کو بیان حلفی جمع کرانا ہو گا،عدالت نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی آئندہ سماعت 3 اکتوبر ملتوی کردی۔