پاسدارانِ انقلاب کا آبنائےہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے امریکا پر ناکہ بندی کے نام پر بحری قزاقی کا الزام عائد کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹرز کے ترجمان کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے کا نظام ایک بار پھر سخت فوجی کنٹرول میں دے دیا گیا ہے۔

ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق اس اقدام کی وجہ امریکا کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیاں اور سمندری ناکہ بندی کو قرار دیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ایران نے پہلے معاہدوں کے تحت محدود تعداد میں جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی، تاہم امریکا نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، جس کے باعث اب آبنائے ہرمز بند کر دی گئی ہے اور آئندہ گزرنے کے لیے ایران کی اجازت لازمی ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک امریکا جہازوں کی آمد و رفت کو مکمل آزادی کے ساتھ بحال نہیں کرتا، اس وقت تک اس اہم آبی گزرگاہ پر سخت نگرانی جاری رہے گی۔

ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے لیے نیا بحری نظام نافذ کیا جائے۔ ان کے مطابق اس نظام کے تحت صرف وہی تجارتی جہاز مخصوص راستوں سے گزر سکیں گے جنہیں ایرانی بحریہ کی اجازت حاصل ہوگی اور مقررہ فیس ادا کی گئی ہوگی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو صورتحال تبدیل کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امن معاہدہ قریب ہے اور ایران افزودہ یورینیم حوالے کرنے پر آمادہ ہو چکا ہے، تاہم ایران نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کا جوہری مواد کہیں منتقل نہیں کیا جا رہا۔

اس سے قبل بھی ایران خبردار کر چکا ہے کہ اگر امریکی بحری جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے والے جہازوں کو روکا تو آبنائے ہرمز کو بند کیا جا سکتا ہے۔