اسلام آباد (آن لائن) وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے او آئی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ تنظیم مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ساتھ کھڑی ہو اورکشمیر تنازعہ کے دیرپا حل کیلئے سفارتی کوشش کی جائیں۔او آئی سی مقبوضہ کشمیر کے عوام کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کرے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے مقبوضہ کشمیر کی تشویشناک صورتحال پر او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کو خط لکھا ہے ۔ سیکرٹری جنرل حصین براہیم طحہ کو بھیجے گئے خط میں وزیر خارجہ نے انہیں ہندوستان کے غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔ ترجمان عاصم افتخار احمد نے بتایا وزیر خارجہ نے یاد دلایا کہ تین سال قبل 5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کیے۔ ان اقدامات میں غیر قانونی فوجی محاصرے، مقبوضہ علاقے کے لوگوں کی بنیادی آزادیوں پر سخت پابندیوں جیسے مظالم شامل ہیں، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے موقف اپنایا کہ اضافی غیر قانونی اقدامات میں غیر قانونی آبادیاتی تبدیلیاں، اور کشمیری قیادت کی قید کی صورت میں سنگین مظالم بھی شامل ہیں۔ ترجمان کے مطا بق بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر ماورائے عدالت قتل عام، جبری گمشدگیاں، نظربندیاں، اور ‘گھیراو و تلاشی’ آپریشنز کا آغاز کیا۔ بلاول بھٹو نے کہا ہندوستان کے اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ سلامتی کونسل، 4th جنیوا کنونشن کے ساتھ ساتھ او آئی سی قراردادوں کی صریحا خلاف ورزی ہیں،۔ خط میں وزیر خارجہ نے یاد دلایا کہ 23 مارچ 2022 کو او آئی سی وزرائے خارجہ، کونسل کے 48 ویں اجلاس میں “تنازع کشمیر” کے عنوان سے قرار داد منظور کی گئی۔ اس قرارداد میں 5 اگست کے بھارتی غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو مسترد کیا گیا۔ خط میں بلاول بھٹو نے موقف اپنایا 2019 اور اس کے بعد کے اقدامات ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت اور آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لیے ہیں۔ متعلقہ قرارداد میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ “ہندوستان 5 اگست 2019 یا اس کے بعد کے تمام غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو واپس لے۔ خط میں کہا گیا ہے بھارت جموں و کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مکمل نفاذ کے لیے ٹھوس اور بامعنی اقدامات کرے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے لیے منصفانہ اور جائز جدوجہد کی حمایت میں او آئی سی کے مستقل اور اصولی مؤقف کو بھی سراہایا۔ انہوں نے او آئی سی پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ساتھ کھڑی ہو اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل اور او آئی سی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازع کا دیرپا حل تلاش کرنے کی سفارتی کوشش کی جائے۔ وزیر خارجہ نے او آئی سی سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کی لاتعداد قربانیوں اور بہادرانہ کاوشوں کی تاریخ کا احترام کرتے ہوئے او آئی سی کے پلیٹ فارم سے مزید اقدامات کرے۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ او آئی سی مقبوضہ کشمیر کے عوام کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کرے۔
Load/Hide Comments



