شیری رحمٰن کا بچوں کیخلاف بڑھتے زیادتی کے کیسز پر اظہارِ تشویش

نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمٰن نے بچوں کے خلاف بڑھتے زیادتی کے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

شیری رحمٰن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنوری تا جون 2026ء بچوں کے خلاف زیادتی کے 1914 کیسز کا رپورٹ ہونا ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے، پنجاب سے80 فیصد کیسز کا آنا ثابت کرتا ہےکہ وہاں بچوں کے تحفظ کا نظام مکمل ناکام ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ 43 فیصد ملزمان کا بچوں کا واقف کار ہونا بتاتا ہے مسئلہ گھروں میں سخت نگرانی نہ ہونا بھی ہے، تقریباً 45 فیصد واقعات کا بچوں کے اپنے گھروں میں پیش آنا سب سے زیادہ افسوس ناک ہے۔

راولپنڈی: 12سالہ لڑکے سے اسکول میں زیادتی کا کیس، ٹیچر کی سزا برقرار

شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ 57 فیصد کیسز شہری اور 43 فیصد دیہی علاقوں سے رپورٹ ہوئے، یہ مسئلہ پورے معاشرے کا ہے کسی ایک طبقے کا نہیں، 89 فیصد کیسز کا کیس درج ہونا اچھا ہے لیکن فوری تفتیش اور بر وقت کارروائی بھی ضروری ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ بچوں سے زیادتی کے ملزمان کسی رعایت کے مستحق نہیں، ہر کیس کو مثال بنایا جائے اور ملزمان کو عبرتناک سزا دی جائے، اعلیٰ عدلیہ بچوں کے خلاف سنگین جرائم کے مقدمات کا فوری ٹرائل کرے، بچوں کا تحفظ ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمے داری ہے۔

شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ والدین کو بھی اپنے اردگرد مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھنی ہو گی، اگر ہم معصوم بچوں کو تحفظ نہیں دے سکتے تو یہ نظام کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔