اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا میں حکومت کی جانب سے بتایا کہ بجلی اور گیس کے شعبے میں گردشی قرضہ 4ارب روپے سے تجاوز کرگیا ہے، ملک میں گیس کی پیداوار سالانہ 10فیصد کم ہورہی ہے، مہمند ڈیم کے متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ روزگار بھی فراہم کیا جارہا ہے۔جمعہ کے وز سینیٹ اجلاس کے دوران وقفہ سوالات میں ضمنی سوال کرتے ہوئے سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کہاکہ گذشتہ تین سالوں کے دوران بجلی کی قیمتوں اور گردشی قرضوں میں کتنا اضافہ ہوا ہے جس پر وفاقی وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر نے کہاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے فروری 2021کے بعد نیپرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود قیمتوں کو نہیں بڑھایا جس کی وجہ سے حکومت کو فنڈنگ کرنی پڑی اور گردشی قرضوں میں اضافہ ہوا ہے انہوں نے کہاکہ 31مارچ تک گردشی قرضہ2467ارب روپے ہوگیا اور اس میں چار سالوں کید وران 1467ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے موجودہ حکومت نے 214ارب روپے گردشی قرضہ واپس کیا ہے اور اس میں اب کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیپرا کو 1ہزار میگا واٹ بجلی روزانہ کی بنیاد پر فراہم کی جارہی ہے ان کے ساتھ نئے معاہدے اور بقایا جات کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ سینیٹر بہرہ مند تنگی نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہاکہ مہمند ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے زمینوں کے مالکان کو صحیح معاوضہ نہیں دیا گیا جس پر وزیر مملکت برائے قانون شہادت اعوان نے کہاکہ زمینوں کی خریداری ایکٹ کے تحت لی جارہی ہے اور قومی کمیشن تشکیل دیا گیا ہے اگر کسی کو بھی اس پر اعتراض ہو تو وہ عدالت میں جاسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ منصوبے کیلئے 90فیصد زمین حاصل کی گئی ہے اور ڈیم پر کام تیزی سے جاری ہے سینیٹر رانا مقبول احمد نے کہاکہ زمینوں کے معاملات کا جائزہ لینے کیلئے اس ایوان سے بھی کمیٹی کو بھیجا جائے جس پر وزیر مملکت نے کہاکہ مہنمد ڈیم کے حوالے سے کسی کے ساتھ بھی ناانصافی نہیں کی جائے گی سینیٹر جام مہتاب نے کہاکہ ڈیم کی تعمیر میں بین الاقوامی کمپنی ہے یا مقامی کمپنی کام کر رہی ہے اور کمپنی کو ڈالرز میں ادائیگی کیوں کی جارہی ہے جس پر وزیر مملکت برائے قانون نے کہاکہ اس منصوبے میں بین الاقوامی کمپنیاں کام کر رہی ہیں سینیٹر بہرہ مند تنگی کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے قانون شہادت اعوان نے کہاکہ مہمند ڈیم کی تعمیر میں ہزاروں مقامی افراد کو نوکریاں فراہم کی گئی ہیں انہوں نے کہاکہ ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں 39گھروں کے مالکان کو ایک گھر کے عوض 60لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا گیا ہے اسی طرح 80متاثرہ گھروں کے 500سے زائد افراد کو نوکریاں دی گئی ہیں انہوں نے کہاکہ اگر کسی کو اس حوالے سے شکایات ہیں تووہ حکومت کواگاہ کریں اس کی شکایت کا ازالہ کیا جائے گاسینیٹر رخسانہ زبیری نے کہاکہ یہ وہ ڈیم ہے جس کا ٹھیکہ بغیر ٹینڈر کے سابق مشیر برائے تجارت کی کمپنی کو دیا گیا ہے جس پر وزیر مملکت نے کہاکہ معاوضوں کی ادائیگی کیلئے باقاعدہ کمیٹی بنائی گئی ہے انہوں نے کہاکہ مہمند ڈیم میں 1800سے زائد مقامی افراد کو ملازمتیں فراہم کی گئی ہیں سینیٹر بہرہ مند تنگی کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر پٹرولیم مصدق ملک نے کہاکہ گیس چوری کے حوالے سے ایس این جی پی ایل میں مسائل زیادہ ہیں زیادہ تر گیس چوری پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ہورہی ہے انہوں نے کہاکہ ایس این جی پی ایل میں 8فیصد جبکہ ایس ایس جی پی ایل میں 16فیصد گیس غائب ہوجاتی ہے اس حوالے سے متعلقہ بورڈز کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں سینیٹر تاج حیدر نے کہاکہ گیس پائپ لائنیں بوسیدہ ہوچکی ہیں گیس لیکیج روکنے کیلئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں جس پر وزیر پٹرولیم مصدق ملک نے کہاکہ لائنوں کی وجہ سے 5فیصد سے زیادہ چوری نہیں ہونی چاہیے جس کیو جہ سے اضافی چوری گردشی قرضوں میں تبدیل ہوجاتی ہے انہوں نے کہاکہ مہنگی ایل این جی خرید کر سبسڈائز ریٹس پر فراہم کی جاتی ہے اور بوجھ ملکی خزانے پر آجاتا ہے.
Load/Hide Comments



