اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیخلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر حکومت اور نیب کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا،چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نیب قانون کا تعلق صرف پبلک آفس ہولڈرز سے نہیں،مخصوص فرد کیلئے بنے قانون کو عدالت کالعدم کر سکتی ہے،سرکار کا کام آگے بڑھنا چاہیے اور فیصلہ سازی ہونی چاہیے، نیب قانون کی وجہ سے سرکاری افسران فیصلہ کرنے سے ڈرتے ہیں، جو ترامیم بنیادی حقوق کیخلاف نہیں انہیں الگ رکھنا ہوگا، ماضی میں مخصوص افراد کیلئے ہونے والی قانون سازی عدالت کالعدم قرار دے چکی،کرپشن کرنے والے کو سزا ہونی چاہیے نا کہ اس کا کیا گیا کوئی ضروری فیصلہ ہی واپس ہوجائے،ہمیں احساس ہے کہ ان مقدمات کی وجہ عدالت میں آنے والا عام ادمی متاثر ہوتا ہے،پارلیمان کے اندر حل کیا ہے کچھ شرائط ہیں اپ کا شرکت کرنا بھی شرائط میں شامل ہے،پارلیمنٹ سے بغیر کسی رکاوٹ کے یہ بل منظور ہوئے۔معاملہ کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل وکیل پی ٹی آئی خواجہ حارث نے دلائل دیئے کہ نیب میں زیادہ کیسز اختیارات کے ناجائز استعمال اور آمدن سے زائد اثاثوں کے ہوتے ہیں،ترمیم کے بعد کسی کو فائدہ پہنچانے پر کیس نہیں بنے گا،جب تک اختیار استعمال کرنے والا خود فائدہ نہ لے کیس نہیں بن سکے گا، پارلیمان کل قرار دے کہ قتل جرم نہیں ہے تو کیا ایسا ہونے دیا جائے؟جسٹس منصور علی شاہ نے اس موقع پر نقطہ اٹھایا کہ کیا قانون سازوں کو ان کا استحقاق استعمال کرنے نہیں دینا چاہیے؟پارلیمان اگر سزائے موت ختم کرتی ہے تو کیا عدالت اسے بحال کر سکتی ہے؟ جس پر خواجہ حارث نے موقف اپنایا کہ سزائے موت ختم کرنے کا معاملہ مختلف ہے، جہاں کرپشن اور قومی خزانے کا معاملہ ہو وہاں بات حقوق کی آتی ہے، امیر آدمی دولت جہاں چاہتا ہے منتقل کر لیتا ہے،پٹواری فرد کے پیسے لیتا پکڑا جائے تو اسکے خلاف کارروائی ہوتی ہے،کیا بڑے آدمی کیخلاف کارروائی نہیں ہونی چاہیے؟ پارلیمان بھی آئین کے ماتحت ہے،نیب ترامیم سپریم کورٹ کے فیصلوں متصادم ہیں انکے مطابق نہیں۔
Load/Hide Comments



