اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاہے کہ گزشتہ کل سپریم کورٹ نے ایک تفصیلی فیصلہ دیا،پاکستان کی تاریخ میں اس فیصلے کو روشن مثال کے طور پریاد رکھا جائے گا،عدالت نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دیا،فیصلے میں دو جج صاحبان نے اضافی نوٹ بھی لکھے ہیں،اضافی نوٹ میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ بد نیتی پر مبنی قرار دی گئی،جب غیر آئینی اقدام ہوا تو پھر آرٹیکل چھ لگنا چاہیے،قاسم سوری نے عجلت میں یہ فیصلہ کیا تھا،سابق وزیراعظم عمران خان کی سمری کو صدر مملکت نے مانا تو یہ بھی غیر آئینی تھا،عمران خان نے بعد میں سازش کا کہا،عدالت کے اس فیصلے نے سازش کے بیانیے کو دفن کر دیا ہے،7 مارچ سے27 مارچ تک اس وقت کے وزیر اعظم سائفر کے حوالے سے چپ رہے،جب آئین شکنی ہوگی تو یہ عدالت عظمی کا اختیار اور فرض ہے کہ آئین سے روگردانی پر اپنا فیصلہ دیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پران کے ساتھ مشیر کشمیر امورقمر زمان کائرہ بھی موجود تھے۔وزیر قانون نے کہا کہ جج صاحب نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ایسی پریکٹس کو مستقبل میں رکنا چاہیے،تحریک عدم اعتماد کو روکنے کیلئے قاسم سوری نے آئین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غیر آئینی رولنگ دی،عدالت نے کہاکہ کوئی ایسا مواد نہیں لایا گیا کہ جس سے نیشنل سکیورٹی کا مسئلہ ہو،اگر ایسا کوئی سنگین معاملہ تھا تو اسکو پارلیمان کے فلور پر لایا جاتا ایسا کچھ نہ کیا گیا،ان ساری باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے عدالت نے طے کر دیا کہ بادی النظر میں یہ قومی سلامتی کا مسئلہ نہیں تھا،عمران خان کے بیرونی سازش کے بیانیے پر آخری کیل ٹھونک دی گئی،پاکستان میں حکومتی اتحادی جماعتوں کوخود مختار پاکستان پر یقین ہے،اصل میں عمران خان نے اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے یہ ہتھیار استعمال کیا،پاکستان کے غیور عوام نے عمران خان کے بیانیے کو قبول نہیں کیا،فیصلے میں کہا گیا کہ کسی بھی غیر ملکی شخصیت سے کسی بھی پاکستان کی سیاسی شخصیت کے رابطے کے شواہد اس وقت کی حکومت نہیں دے سکی،عمران خان اور اس حکومت نے آرٹیکل 19 کو بیساکھی کے طور پر استعمال کیا۔
Load/Hide Comments



