سری لنکا کی پارلیمنٹ 20 جولائی کو نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کرے گی

کولمبو (آن لائن) شدید معاشی بدحالی کے شکار ملک سری لنکا کی پارلیمنٹ 20 جولائی کو نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کرے گی،غیر ملکی میڈیا کے مطابق 225 نشستوں پر مشتمل پارلیمنٹ کے ارکان کی جانب سے نئے صدر کے لیے نامزدگیاں 19 جولائی کو جمع کرائی جائیں گی،دوسری جانب سری لنکا کے صدارتی محل پر تیسرے روز بھی عوام کا قبضہ برقرار ہے۔ مظاہرین نے صدر راجا پاکسے اور وزیراعظم رانیل وکرمے سنگھے کے عہدے سے ہٹنے تک نکلنے سے انکار کر دیا،سری لنکا میں مظاہرین نے دھاوا بول کر صدراتی محل پر قبضہ کرلیا اور وہاں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے عزم کا ظاہر کیا کہ وہ صدر کے استعفے تک صدارتی محل خالی نہیں کریں گے۔ دھاوے کے وقت صدر گھر پر موجود نہیں تھے تاہم انہوں نے عہدہ صدارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا جس کی وزیر اعظم آفس کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی ہے۔ مظاہرین نے وزیر اعظم کے گھر کو بھی نظر آتش کر دیا تھا،مظاہرین ملک میں جاری بدترین معاشی بحران سے تنگ ہیں اور صدر گوتا بایا راجا پکسے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس سے قبل سری لنکا میں معاشی بحران پر کئی ماہ سے مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔صدر گوتابایا راجا پکسے نے 13 جولائی کو مستعفی ہو نے کا اعلان کر رکھا ہے اور وزیر اعظم آفس سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ صدر اپنے اعلان کے مطابق مستعفی ہو جائیں گے،سری لنکا کی پارلیمنٹ کے سپیکر نے کہا ہے کہ صدر نے ’اقتدار کی پرامن منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ’قانون کا احترام کریں،صدر گوتا بایا کے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد سے عوام میں خوشی کی لہردوڑ گئی ہے اور دارالحکومت کولمبو میں جشن منایا جا رہا ہے،سری لنکا کو 70 سالہ تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر نہ ہونے کی بنا پر حکومت کو خوراک، ایندھن اور ادویات کی درآمد میں مشکلات درپیش ہیں۔