اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان کی ذہنی حالت تشویشناک ہو چکی ہے،وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں اسی لئے وہ ایسی گفتگو کر رہے ہیں، ڈھونگ رچا کر اور دھوکہ دے کر پاگل بنا ہوا ہے،جب بھی کرپشن کی بات کرتے ہیں تو انہیں ”بتانا“ یاد آجاتا ہے،بشریٰ بی بی نے اداروں کے خلاف مہم چلائی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ یہ وہی شخص ہے جو کہتا تھا کہ مجھے ڈالر کی قیمت میں اضافے کا ٹی وی سے پتہ چلتا ہے، یہ کہتا تھا کہ میں حکومت میں آلو، پیاز، ٹماٹر کے نرخ مانیٹر کرنے نہیں آیا،کل یہ کہہ رہے تھے کہ میں بتا دوں گا کہ کس طرح حکومت آئی ہے، جب بھی ان کے خلاف کوئی ثبوت، خبر، کرپشن کا سکینڈل آتا ہے تو انہیں بتانا یاد آ جاتا ہے، انھوں نے کہا کہ عمران خان کو 8 مارچ کو سائفر آیا، 28 مارچ کو انہوں نے بتایا، آج بتا دوں کہنے والا شخص اس وقت اس پر خاموش اس لئے رہا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یا ناکامی کا انتظار کر رہا تھا، عمران خان آر ٹی ایس کو بٹھا کر اور عوام کا مینڈیٹ چوری کر کے وزیراعظم بنا، چار سال اقتدار کی کرسی بولنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا، انہوں نے کہاکہ 2018ء میں جب وہ ملک کا وزیراعظم بنا تو ایک کروڑ نوکری، پچاس لاکھ گھردینے کا جھوٹ بولا،مریم اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے ہر نکتہ پر افراتفری پھیلانے کی کوشش کی، آتے ہی سیاسی مخالفین کو جیلوں میں بند کرنا شروع کیا،عمران خان عوام کو بتائیں کہ رانا ثناء اللہ پر دو کلو ہیروئن کا پلان کس طرح بنایا تھا؟عوام کو بتائیں کہ شہباز شریف پر جھوٹے مقدمات قائم کر کے انہیں جیلوں میں کس طرح ڈالا، پھر ڈیوڈ روز کو بلا کر وزیراعظم ہاؤس کے کمرے میں بٹھا کر کس طرح سازش کا بیانیہ بنانے کی کوشش کی،عوام کو بتائیں کہ شہباز شریف کے خلاف انہوں نے نیشنل کرائم ایجنسی سے رابطہ کیا اور عدالتوں میں ثبوت پیش نہیں کر سکے،عدالت نے فیصلہ دیا کہ کوئی کرپشن، منی لانڈرنگ، کک بیکس یا کسی ناجائز اختیار کا استعمال نہیں ہوا، نیشنل کرائم ایجنسی سے دس سال کے ڈیٹا کی انکوائری کروائی، وہاں سے بھی فیصلہ آیا کہ کوئی منی لانڈرنگ اور کرپشن نہیں ہوئی،عوام کو بتائیں کہ شہزاد اکبر کی سربراہی میں کس طرح ایسٹ ریکوری یونٹ ایسٹ میکنگ یونٹ بنا،عوام کو بتائیں کہ کس طرح نیب کو استعمال کر کے کاروباری افراد کو تنگ کیا، ایف آئی اے کو استعمال کر کے کس طرح چار سال سیاسی انتقام لیا جاتا رہا عوام کو بتائیں کہ مفتاح اسماعیل اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف کیس بنا کر انہیں جیلوں میں کس طرح ڈالاگیا، انہوں نے کہا جس وقت انہیں سستی ایل این جی مل رہی تھی انہوں نے نہیں خریدی، وہ سستے منصوبے جو ایل این جی پر چل رہے تھے آج ان کی نالائقی کی وجہ بند ہیں، یہ تمام چیزیں عوام کو بتائیں کہ کس طرح سعد رفیق، خواجہ آصف، احسن اقبال کو سپورٹس کمپلیکس بنانے پر جیل میں ڈالا گیا، عوام کو بتائیں کہ کس طرح اپنے دستخطوں سے آٹا، چینی، بجلی، گیس، دوائی کی چوری کی، عوام کو بتائیں کہ کس طرح پٹرول اور گیس کے مافیا کو فائدہ پہنچایا، 2013، سے 2018ء سے کوئی منصوبہ فرنس آئل پر نہیں چل رہا تھا، اس کے بعد کیوں استعمال ہوا، کیوں بجلی کے منصوبے تاخیر کا شکار ہوئے؟
Load/Hide Comments



