وفاقی آئینی عدالت کا سندھ ہائیکورٹ کے اساتذہ کو اضافی انتظامی عہدوں سے ہٹانے کے فیصلے پر حکم امتناع

سندھ یونیورسٹی، داؤد میڈیکل کالج، اعلیٰ تعلیمی اداروں سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، جہاں وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف حکمِ امتناع جاری کردیا۔

سندھ ہائیکورٹ نے اساتذہ کو اضافی انتظامی عہدوں سے ہٹانے کا حکم دیا تھا، سندھ حکومت اور سندھ یونیورسٹی نے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں بینچ نے اپیلوں پر سماعت کی۔

ایچ ای سی سندھ کی انتظامی اسامیوں سے اساتذہ کو ہٹانے کی ہدایت

سماعت کے دوران وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سندھ یونیورسٹی ایکٹ کے تحت وائس چانسلر کو اساتذہ کو اضافی انتظامی چارج دینے کا اختیار حاصل ہے۔ اضافی انتظامی ذمہ داریوں کا مقصد اساتذہ کی انتظامی استعداد اور قیادت کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔

وکیل نے کہا کہ اساتذہ کو تدریس کے ساتھ انتظامی تجربہ بھی حاصل ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دے سکیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے دلائل سننے کے بعد سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر حکمِ امتناعی جاری کردیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کردی۔