معاشی ترقی کیلئے سیاسی استحکام بہت ضروری ہے،چین سے ملنے والے 2 ارب ڈالرملک کی معاشی ترقی کیلئے استعمال کرینگے،آئی ایم سے 2 ارب ڈالر مل جائیں گے،وزیر اعظم
سلام آباد (آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہماری اصل منزل خود انحصاری ہے، خود انحصاری ہی کسی قوم کی معاشی، سیاسی آزادی کی ضمانت ہوتی ہے،ملک کے جو حالات ہیں اس کا ہم کسی سے کوئی گلہ نہیں کر سکتے،ملک میں معاشی استحکام لانے کی کوشش کرینگے لیکن معاشی ترقی کیلئے سیاسی استحکام بہت ضروری ہے،آئی ایم ایف سے 2 ارب ڈالر مل جائیں گے،چین سے ملنے والے 2 ارب ڈالرملک کی معاشی ترقی کیلئے استعمال کرینگے۔منگل کے روزاسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں ٹرن آراؤنڈ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ آئی ایم ایف سے ایک نہیں بلکہ 2 ارب ڈالر مل جائیں گے، اچھی بات ہے مگر ہماری اصل منزل خود انحصاری ہے، خود انحصاری ہی کسی بھی قوم کی معاشی، سیاسی آزادی کی ضمانت ہوتی ہے، اس کے بغیر کوئی آزادانہ فیصلے نہیں کرسکتی،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اربوں روپے کے قدرتی وسائل موجود ہیں مگر آاستعمال نہیں کرسکے، میرے سامنے دنیا کے بہترین اذہان بیٹھے ہیں، ریکوڈک میں اربوں ڈالر کا خزانہ دفن ہے مگر ہم نے ایک دھیلہ نہیں کمایا اور مقدمے لڑتے ہوئے قوم کے اربوں روپے ضائع ہوگئے،پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے، یہ وہ صلاحیت ہے جس نے دشمن کے دانت ہمیشہ کے لیے کھٹے کردیئے ہیں،وزیراعظم نے کہا کہ حویلی بہادر شاہ 2 ساڑھے 1200 میگاواٹ بجلی پیداوار کا جدید منصوبہ 2 سال قبل مکمل ہوجانا تھا مگر آج تک نہیں چل سکا جس کے باعث لاکھوں روپے کا قوم کو نقصان ہوا، اس منصوبے کے باعث لوگوں کو روزگار ملنا تھا، سستی بجلی ملنی تھی،شہباز شریف کامزید کہنا تھا کہ دنیا میں عالمی بحران کے باعث فیول کی قیمتیں بہت بڑھ گئیں ہیں، ہمارے گزشتہ دور حکومت میں سستی ایل این جی کے معاہدے کیے گئے، اس پر تنقید کی گئی، مگر سابقہ پی ٹی آئی حکومت نے ایل این جی خریدنے کا کوئی معاہدہ نہیں کیا،گزشتہ دنوں ایل این جی کی اسپاٹ پر قیمت 4 ڈالر جب کہ لانگ ٹرم معاہدے کے تحت اس کی قیمت 4 یا 5 ڈالر تھی، اس وقت کسی نے اس کی خریداری کے بارے میں سوچا تک نہیں اور آج جب کہ دنیا بحران کی زد میں ہے تو کسی ملک نے ہمیں ایل این جی دینے کی پیش کش نہیں کی،مخلوط حکومت کے کچھ فوائد ہیں لیکن اس کے ساتھ اس میں کچھ چیلنجز کا بھی سامنا ہوتا ہے، مشاروت اہم عمل ہے، فیصلوں پرمشاورت جمہوری عمل ہے، اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں گے،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں میں نے گھی اور خوردنی تیل کے بحران کے دوران انڈونیشیا کے صدر کو کال کی تو انہوں نے فوری پر پاکستان کے لیے گھی روانہ کیا، یہ ایک مثال ہے اگر ہم کام کرنا چاہیں تو معاملات کو چلایا جاسکتا ہے-
Load/Hide Comments



