اسلام آباد (آان لائن)وفاقی وزیر اطلاعات اور نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ قائد مسلم لیگ ن میاں نواز شریف اور وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کشمیر کاز سے گہری وابستگی رکھتے ہیں دونوں قائدین تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے ہر فورم پر گفتگو کرتے ہیں موجودہ حکومت 5اگست کو بھارتی اقدام کے خلاف کشمیریوں سے یکجہتی کا عملی اظہار کرے گی۔اس حوالے سے دنیا بھر میں سفارتخانوں کو بھارتی اقدام کو بے نقاب کرنے کی ہدایات جاری کی جارہی ہیں۔مسلم لیگ ن نے ایک لمحہ کے لیے بھی مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کو فراموش نہیں کیا۔ موجودہ حکومت میاں نواز شریف کے ویڑن کے مطابق کشمیریوں کی اخلاقی،سیاسی،سفارتی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔بھارت کے 5اگست کے اقدامات کو حکومت پاکستان نے نہ پہلے تسلیم کیا ہے نہ اب کرتے ہیں۔کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔اور کشمیری عوام کو استصواب رائے کا موقع دے کر اس درینہ تنازعہ کو حل کیا جاسکتا ہے۔کشمیری اپنے پیدائشی حق حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں کشمیریوں کے اس حق کو اقوام متحدہ نے تسلیم کررکھا ہے۔اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ کشمیر سے متعلق اپنی قرار دادوں پر عملد آمد کروائے اور کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق حق خود ارادیت دلایا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سینئر حریت رہنما،جموں کشمیر سالویشن موومنٹ کے صدر الطاف احمد بٹ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔گزشتہ روز ممتاز حریت پسند کشمیری رہنما اور جموں کشمیر سالویشن موومنٹ کے صدر الطاف احمد بٹ نے وفاقی وزیر اطلاعات سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی اور وزارت اطلاعات کا قلمدان سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اس موقع پرسابق مئیرراولپنڈی سردار نسیم اور وفاقی وزیر کی والدہ طاہرہ اورنگزیب بھی موجود تھیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ کشمیر اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں انہیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا قائدین حریت اور کشمیری عوام نے اپنی آزادی کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔انشاء اللہ ان عظیم قربانیوں کے نتیجے میں کشمیری اپنی منزل حاصل کرکے رہیں گے۔اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے الطاف احمد بٹ نے کہا کہ5اگست کے اقدامات غیر قانونی غیر آہینی غیر اخلاقی ہیں ان اقدامات سے بھارت دنیا کی انکھوں میں دھول جونک رہا ہے بھارت نے اسرائیل کی مدد سے غیر قانونی غیر اہینی اقدامات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کیا ہے۔اور اب تک چالیس لاکھ سے زائد ہندوؤں کو کشمیری پشتینی باشندہ سرٹیفیکیٹ جاری کیے گئے ہیں بھارت کا یہ اقدام سرا سر غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کیلئے قائدین حریت کوجھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں جیلوں میں بند کررکھا ہے،تاکہ کشمیریوں کی حریت پسند اواز دنیا تک نہ پہنچ سکے میر واعظ عمر فاروق، شبیر شاہ،یاسین ملک،ظفر اکبر بٹ، قاسم فکتو،آسیہ اندرابی،نعیم خان سمیت متعدد حریت رہنما پس دیوار زنداں ہیں حال ہی میں بھارتی ایجنسیوں نے اسراہیلی طرز پر مقبوضہ جموں وکشمیر کے قاہد اعلی سید علی گیلانی اور اشرف صحراء کو دوران حراست قتل کیا ،بھارت طاقت کے بل بوتے پر کشمیریوں کی آزادی کی آواز کودبانا چاہتا ہے آئے روز بھارتی فوج جالی اور بے بنیاد کریک ڈاؤن اور مقابلوں کے ذریعے معصوم کشمیریوں کو قتل کررہی ہے۔
Load/Hide Comments



