اسرائیل نے غزہ میں جاری جنگ میں کارروائیوں کے لیے مزید ٹینک رفح روانہ کرتے ہوئے پیشگوئی کی ہے کہ یہ جنگ مزید 7 ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق عالمی عدالت انصاف کی جانب سے گزشتہ ہفتے جنگ بندی اور حملے روکنے کے حکم کے باوجود منگل کو اسرائیل کے ٹینک پہلی بار رفح میں داخل ہو گئے جہاں لاکھوں فلسطینیوں نے حملوں کےبعد پناہ لی ہوئی ہے۔
عالمی عدالت انصاف کاکہنا تھا کہ اسرائیل نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کس طرح رفح سے انخلا کے عمل کو اپنی کارروائیوں سے محفوظ رکھے گا اور خوراک، پانی اور ادویات کیسے فراہم کرے گا۔
رفح کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ٹینک مغربی علاقوں تل السلطان اور یبنا اور وسط میں واقع شبورہ میں داخل ہو گئے ۔
خبررساں ادارے کے مطابق رفح میں ایمبولینس اور ایمرجنسی سروسز کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیثم الحمس کاکہنا تھا کہ ہمیں تل السلطان کے رہائشیوں کی طرف سے تشویشناک کالیں موصول ہوئیں جہاں ڈرونز نے بے گھر شہریوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ان علاقوں سے نقل مکانی کر کے محفوظ علاقوں کی جانب منتقل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں اور گولہ باری میں 19 شہری شہید ہو گئے۔
وزیر صحت ماجد ابو رامان نے امریکا پر زور دیا کہ وہ امداد کے لیے رفح کراسنگ کھولنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔
اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (یو این آر ڈبلیو اے) نے کہا کہ اسرائیل کے انخلا کے احکامات کے بعد تقریباً 10 لاکھ شہری رفح شہر سے بے گھر ہوئے ہیں۔



