کینیڈا میں خالصتان تحریک شدت اختیار کر گئی

ٹورنٹو(آن لائن)کینیڈا میں اس بار خالصہ ڈے یا بیساکھی کی تقریبات میں وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی موجودگی میں خالصتان زندہ باد کے نعرے لگنا یقینا عالمی سطح پر بدلتی ہوئی رائے عامہ کے عکاس ہیں،بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور را کی غنڈہ گردی اب پوری دنیا میں بے نقاب ہو چکی ہے۔کینیڈا میں خالصتان تحریک شدت اختیار کر گئی،خالصہ ڈے کے حوالے سے کینیڈا میں تقریبات جاری ہیں جس سے تحریک خالصتان میں تیزی آگئی ہے۔کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے سکھ برادری کی تقریبات میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے سکھوں کو ان کے حقوق کے تحفظ کی مکمل یقین دہانی کروائی۔سکھوں کی تقریبات کے بعد مودی سرکار کے سکھوں کیخلاف دہشتگردانہ اقدامات پر عالمی سطح پر مذمت کی گئی۔خالصہ ڈے کے حوالے سے سکھوں کی بڑی تعداد نے مودی مخالف نعرے بازی کی اور پوسٹرز بھی اٹھا رکھے تھے۔تحریک خالصتان ک ایک بار پھر سے زور پکڑنے پر مودی سرکار شدید عدم تحفظ کا شکار ہے۔مودی سرکار کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے اقدام پر تلملا اٹھی اور نئی دہلی میں کینیڈین ناظم الامور کو فوری طور جواب طلبی کیلئے بلایا گیا۔بھارتی حکومت نے موقف اختیار کیا کہ کینیڈین وزیراعظم اپنی سرزمین پر تشدد اور انتہاء پسندی کو ہوا دے رہے ہیں۔کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی خالصتان تحریک کے واضح موقف اور بھارتی دفتر خارجہ میں کینیڈین ناظم الامور کی جواب طلبی دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو مزید بڑھانے کی جانب اشارہ ہے۔کینیڈین وزیراعظم کی خالصہ تحریک کی تقریبات میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ کینیڈین سرزمین پر بھارتی دہشتگردی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ان تقریبات سے بھارت کو پیغام دیا گیا کہ کینیڈین حکومت ہردیپ سنگھ نجر کے قاتلوں کیخلاف سکھوں کے ساتھ کھڑی ہے۔