اسلام آباد بلدیاتی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی مزید مہلت کی استدعا منظور

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق اسلام آباد ہائی کور ٹ نے الیکشن کمیشن کی مزید مہلت کی استدعا منظور کرلی،عدالت نے الیکشن کمیشن سے حکومتی نوٹیفکیشن کے تحت واضح موقف 22 جون کو طلب کرلیا۔پیر کے روز چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی۔ الیکشن کمیشن کے حکام نے بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق آرڈیننس کو کالعدم قرار دیا تھا،عدالت نے پرانے قوانین کے تحت انتخابات کا فیصلہ سنایا تھا،اب یونین کونسل کی تعداد بڑھائی گئی ہے، یونین کونسل کی تعداد نہ بڑھتی تو الیکشن کے انعقاد کے لیے ہماری تیاری مکمل تھی،الیکشن کمیشن انتخابات کا شیڈول جاری کرچکا ہے،ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن میں تاخیر نہیں چاہتے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اب نئی حلقہ بندیاں کروانا ہونگی؟جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ نئی حلقہ بندیاں ہونگی،اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ حلقہ بندیوں کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا؟جس پر الیکشن کمیشن حکام نے عدالت کو بتایا کہ حلقہ بندیوں کے لیے کم از کم دو ماہ کا وقت درکار ہوگا، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ سو یونین کونسلز کی حلقہ بندیاں کرچکے ہیں؟ قاضی عادل ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن 100 یونین کونسل کی جنوری میں حلقہ بندیاں کرچکاہے، جس پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ صرف ایک یونین کونسل کی حلقہ بندی کا مسئلہ ہے جس پر عدالت نے کہا کہ آپ100 یونین کونسل کی حلقہ بندی کرچکے ہیں اب تو دوبارہ شیڈول جاری کیا جاسکتا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ جب انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری ہوگیا ہے تو کیا الیکشن کمیشن انتخابات نہیں کروائے گا؟وفاقی حکومت نے انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری کیا،اب اس نوٹیفکیشن کا کیا ہوگا؟100 یونین کونسلز کا الیکشن کمیشن کو پہلے ہی معلوم تھاجس پر وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ حکومت 100 یونین کونسلز کرچکی ہے،اب پچاس یونین کونسل تو موجود ہی نہیں پھر یہ کیسے وہاں ہر انتخابات کروائیں گے،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پچاس یونین کونسل کا نوٹیفکیشن حکومت واپس لے چکی ہے،اس موقع پر عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کس نوٹیفکیشن پر انتخابات کروانے جارہی ہے،اس موقع پر الیکشن کمیشن کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ پچاس یونین کونسل والے نوٹیفکیشن پر انتخابات کروا رہے ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ وہ یونین کونسلز تو موجود ہی نہیں پچاس یونین کونسل کا نوٹیفکیشن مئی 2021کو واپس ہوچکا ہے،حکام نے کہا کہ الیکشن کمیشن وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق الیکشن کروانے کا پابند ہے،وقت دے دیا جائے ہم عدالت کو اس پر مطمئن کرتے ہیں، اس موقع پر عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق انتخابات کروائے،پچاس یونین کونسل کا نوٹیفکیشن واپس ہوچکا ہے،کس نوٹیفکیشن کے تحت انتخابات کا شیڈول جاری کیا ہے؟جس نوٹیفکیشن کے تحت شیڈول جاری کیا وہ ہوچکا ہے، الیکشن کمیشن کا کیا موقف ہے عدالت آگاہ کیا جائے،اس موقع پر وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق دستاویز جمع کرانے کی آخری تاریخ ہے،اس موقع پر الیکشن کمیشن حکام نے عدالت کو بتایا کہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ بڑھا دی ہے،عدالت نے الیکشن کمیشن کی جواب داخل کرانے کیلئے مزید وقت دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 22 جون تک ملتوی کر دی۔