اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے ہوتے ہوئے گروتھ ہو سکتی ہے،ملکی سالمتی کے لئے سب کو مل کر بیٹھنے اور کام کرنے کی ضرورت ہے،دوکانداروں بڑے ڈسٹری بیوٹرز اور ہول سیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے،ٹیکس ریونیو بڑھانے کے لئے ڈیجٹلائیزیش کی طرف جائیں گے۔آئی ایم ایف پروگرام میں رقم کے حوالے سے فی الحال کوئی بات نہیں ہوئی۔ہماری محصولات کا ٹارگٹ 9.3ٹریلین ہے۔پی آئی اے کی نجکاری جون تک ہو جائے گی۔نجی ٹی وی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ڈسکوز کی نجکاری بھی کی جائے گی۔نجکاری کے حوالے سے قانون سازی کی جائے گی۔ہماری زیادہ سے زیادہ توجہ ایف بی آر کی اصلاحات پر ہے۔ڈاکٹر شمشاد نے وزیراعظم کو بریفنگ دی ان کی بتائی چیزوں پر غور کر رہے ہیں۔تمام سیکٹرز کو ٹیکس میں لانا ہماری ترجیح ہے۔آئی ایم ایف کے پروگرام کی معیاد کم از کم تین سال ہو گی۔ابھی تو ہم بجٹ کی طرف جا رہئے ہیں بعد میں بینکنگ سسٹم پر بھی غور کیا جائے گا۔ہم صوبوں کے ساتھ مشاورت کر کے آگے چلیں گے۔وزیراعظم نے واضیح طور پر کہا ہے کہ ہم نے اپنے آپریشنل خرچے کم کرنے ہیں۔
Load/Hide Comments



