وزیراعظم سمیت کابینہ کا تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا اعلان

اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف سمیت وفاقی کابینہ کے اراکین نے رضاکارانہ طور پر تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم سمیت کابینہ نے تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا فیصلہ کیا گیا، تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا فیصلہ حکومتی سطح پر کفایت شعاری کی ترویج کے تناظر میں لیا گیا، اجلاس میں وفاقی کابینہ نے میر علی دہشت گرد حملے کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے لیے فاتحہ خوانی کی، اس موقع پر کابینہ نے ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا عزم کیا۔اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے وفاقی کابینہ کو آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول ایگریمنٹ پر تفصیلی بریفنگ دی، انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے سے ملکی معیشت میں بہتری آئے گی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مزید اضافہ متوقع ہے، کابینہ نے پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائینز ہولڈنگ کمپنی تشکیل کرنے کی منظوری دے دی جو کہ پی آئی اے کی نجکاری کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔وفاقی کابینہ نے وزارتِ تجارت کی سفارش پر درآمدات و برآمدات کے حوالے سے پابندیوں سے استثنیٰ کا تعین کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دے دی جس کے کنوینر وفاقی وزیر تجارت ہوں گے۔ یہ کمیٹی ٹریڈ آرگنائیزشنز ایکٹ 2013 کے سیکشن 21 کے تحت مذکورہ بالا استثنیٰ کا تعین کرے گی اور اس حوالے سے اپیلیں بھی سنے گی۔ وفاقی کابینہ نے وزارتِ داخلہ کی سفارش پر ڈاکٹر شیریں مزاری، سابق رکن قومی اسمبلی کی گرفتاری /حراست کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر قائم کیے گئے وفاقی کمیشن کی سفارشات کو متعلقہ وفاقی اور صوبائی اتھارٹیز کو بھیجنے کی منظوری دے دی۔ وفاقی کابینہ نے وزارتِ قانون و انصاف کی تجویز اور سندھ ہائی کورٹ کراچی کی سفارش پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج غلام شاہ جو کہ بطور جج بینکنگ کورٹ II حیدرآباد میں ڈیپوٹیشن پر کام کررہے تھے کی خدمات ان کے محکمے کو واپس کرنے کی منظوری دے دی۔