اب گیند حماس کے کورٹ میں ہے کہ وہ چھ ہفتوں کے لیے جنگ بندی کی تجاویز قبول کرتی ہے یا نہیں، جوبائیڈن

واشنگٹن(آن لائن) امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ رمضان سے پہلے غزہ میں جنگ بندی نہ ہوئی تو حالات بے قابو ہوکر انتہائی خطرناک صورتحال اختیارکر جائینگے،اب گیند حماس کے کورٹ میں ہے کہ وہ چھ ہفتوں کے لیے جنگ بندی کی تجاویز کو قبول کرتی ہے یا نہیں۔میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں جب ان سے غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے سوال کیا گیا توامریکی صدر نے کہا کہ رمضان قریب ہے چاہتے ہیں کہ اس سے قبل جنگ بندی ہوجائے تاکہ حالات معمول پر آسکیں اگر ایسا نہ ہوا تو حالات پہلے سے کئی زیادہ خطرناک صورتحال اختیار کرجائینگے۔ انہوں نے کہا کہ حماس کو چاہیے کہ وہ چھ ہفتوں کے لیے جنگ بندی کی تجاویز کو قبول کرلے۔ غزہ میں اسرائیلی فوج کی طرف سے انسانی بنیادوں پر امدادی کی ترسیل کی راہ میں پیدا کردہ رکاوٹوں کے حوالے سے ایک سوال میں جوبائیڈ نے کہا کہ اس کے لیے کوئی عذر یا بہانہ نہیں ہو سکتا ہے کہ لوگوں تک فلسطینی علاقے میں امدادی سامان نہ پہنچنے دیا جائے۔’اکیاسی سالہ جوبائیڈن جو اگلے نومبر میں ایک بار پھر امریکی صدارت کے لیے انتخاب لڑنے جا رہے ہیں نے جنگ بندی کو حماس پر ڈال دیا۔ واضح رہے پچھلے ماہ امریکہ نے اسرائیلی خواہش کی تیسری بار تعمیل کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔ تاہم اس کے بعد امریکی انتظامیہ کو امریکہ کے اندر اور باہر سے سخت دبا کا سامنا ہے۔صدر جوبائیڈن جنگ کے پانچ ماہ مکمل ہونے اور 30600 سے زائد فلسطینیوں کے غزہ میں قتل کے بعد کے درپیش مرحلے پر اطمینان ظاہر کیا کہ اسرائیل جنگ بندی کے لیے تعاون کر رہا ہے، جوبائیڈ نے کے بقول ‘اس کی پیش کش منطقی ہے۔ ‘ انہوں نے کہا ‘ ہم اگلے ایک دو دنوں کے دوران جنگ بندی کے بارے میں جان جائیں گے مگر ہم جنگ بندی چاہتے ہیں۔ ‘امریکی صدر نے مزید کہا رمضان سے پہلے جنگ بندی ضروری ہے اگر اس میں ہم کامیاب نہ ہوئے تو یہ یروشلم اور اسرائیل کے لیے بہت بہت خطر ناک ہو سکتا ہے۔’