لاہور (آن لائن) نائب امیر جماعت اسلامی، مجلس قائمہ سیاسی قومی اُمور کے صدر لیاقت بلوچ نے منصورہ میں مشاورتی اجلاس اور ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایک مرتبہ پھر دو خاندانوں کا تسلط قائم ہوگیا۔ ماضی میں بھی بھٹو خاندان اور شریف خاندان سے وابستہ توقعات نے قوم کو مایوسیاں دیں۔ عوام نے دو خاندانوں کے تسلط کے خاتمہ کے لیے عمران خان سے محبتیں اور بڑی توقعات وابستہ کیں مگر یہ بھی المناک حقیقت ہے کہ تحریکِ انصاف بھی دو خاندانوں کے سامنے بے بس اور ناکام ہوگئی۔ بے اصول، بیکردار، مفادپرست، غیرنظریاتی سیاست کا خاتمہ شدت، نفرت اور سوشل میڈیا پر بیہودہ جھوٹ پر مبنی مہم سے نہیں بلکہ کردار، ریلیف، نظریاتی استقامت سے ہی مفاد پرست سیاست کا خاتمہ ممکن ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان میں کردار، اہلیت، انسانی خدمات اور امانت و دیانت کی جدوجہد سے عوام کو منظم کرے گی اور ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی لائے گی۔ اقتصادی بحران کا خاتمہ ورلڈ بنک، آئی ایم ایف اور عالمی استعماری قوتوں کے سامنے سرنگوں ہونے سے نہیں بلکہ خودانحصاری، خودداری، اپنی قوم اور وسائل پر اعتماد و انحصار اور عیاشیوں، پروٹوکول کلچر کو ترک کرکے عوام کے خون پسینہ کی کمائی پر ڈاکہ زنی بند کرنے سے ہوگی۔ وزیراعظم شہباز شریف پہلا قدم اُٹھائیں اور اعلان کریں کہ قومی معیشت کو سُود کی لعنت سے نجات دلانے کے لیے حکومت وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ پر عمل کرے گی۔ لیاقت بلوچ نے مصر میں اخوان المسلمون کے مرشدِ عام ڈاکٹر بدیع اور دیگر رہنماؤں کو مصری کینگرو کورٹ کی طرف سے سزائے موت سنائے جانے کے اعلان کو بنیادی انسانی حقوق اور انصاف کے تمام بین الاقوامی معیارات کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصر و بنگلہ دیش میں سیاسی دینی قائدین پر ریاستی ظلم و بربریت کے تحت قید و بند اور موت کی سزائیں اقوامِ متحدہ سمیت عالمی انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کے منہ پر طمانچہ اور مسلم حکمرانوں کے لیے بہت بڑا المیہ ہے۔پی ٹی آئی کے بانی سربراہ عمران خان کی طرف سے آئی ایم ایف کو خط لکھنے کے حوالے سے لیاقت بلوچ نے کہا کہ عمران خان کا یہ عمل بیرونی عالمی استعماری غلامی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں خاتون رکن اسمبلی کے خلاف وزیٹرز گیلری میں موجود پی ٹی آئی ورکرز کی طرف سے بے ہودہ ہُوٹنگز اور مختلف اشیاء پھینکے جانے سمیت اخلاق سے گری ہوئی گفتگو کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی قیادت اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف ایکشن لے۔لیاقت بلوچ سے صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی نے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور صدارتی انتخاب میں ووٹ کی مدد مانگی۔ لیاقت بلوچ نے محمود خان اچکزئی کی کوئٹہ رہائش گاہ پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیرقانونی اور انتقامی کارروائی کی مذمت کی اور اس ناخوشگوار واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا۔ صدارتی ووٹ سے متعلق محمود خان اچکزئی کو آگاہ کیا کہ جماعتِ اسلامی بلوچستان اور سندھ اسمبلیوں کے اپنے ارکان اور صوبائی جماعتوں کیساتھ مشاورت کے بعد مرکز فیصلہ کرے گی۔ امیر جماعتِ اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی اور امیر جماعتِ اسلامی سندھ محمد حسین محنتی نے مشاورتی اجلاس طلب کرلیے۔ جماعتِ اسلامی کا واضح دوٹوک مؤقف ہے کہ سیاست، انتخابات اور پارلیمانی عمل میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت اور بالادستی ختم ہوجانی چاہیے۔ قومی سیاسی قیادت ہوش کے ناخن لے اور ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرے۔ سیاسی اور جمہوری بحرانوں کا علاج سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔
Load/Hide Comments



