پشاور(آن لائن)8 فروری کو ملک میں الیکشن نہیں گندی ترین مینوفیکچرنگ کی گئیعسکری سیمنٹ اورعسکری بینک کے بعد آج عسکری پارلیمنٹ بھی بنا دی گئی ہے چوکیداروں نے امیدواروں سے کروڑوں لیکر اربوں کمائے اور لوگوں کو جتوایااور وہ ر قومی چور ہے،اس نے پورے قوم کے حق پر ڈاکہ مارا ہے ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے پختونخوا اسمبلی کے باہر منعقد احتجاجی تحریک کے تیسرے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا مظاہرے میں صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک کے علاوہ عوامی نیشل پارٹی کے اعلیٰ قیادت نے شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ عوام کیساتھ ایسا ڈرامہ کیا گیا کہ آج افغانستان کے ایک شہری نے بھی حلف لیا انتخابات پر سرکاری خزانے سے اربوں روپے خرچ کئے گئے چوکیداروں نے امیدواروں سے کروڑوں لیکر اربوں کمائے اور لوگوں کو جتوایاچوکیدار قومی چور ہے،اس نے پورے قوم کے حق پر ڈاکہ مارا ہے۔انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو اس اختیار پر ڈاکہ ڈالا گیا جو پختونوں کیلئے باچا خان نے جیتا تھااسی حق کی بنیاد پر خدائی خدمتگاروں نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی تھی خدائی خدمتگارانگریز کے خلاف جانوں کی قربانیاں دے رہے تھے جبکہ یہ لوگنوکری کررہے تھے انہوں نے کہا کہ ہمارے اکابرین نے بابڑہ میں سینوں پر گولیاں کھائیں لیکن اپنے نظریئے سے نہیں ہٹے چوکیدار ملک میں 146 مختلف قسم کے کاروباری ادارے چلا رہے ہیں عسکری سیمنٹ اورعسکری بینک کے بعد آج عسکری پارلیمنٹ بھی بنا دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بھی ایک حکومت بنی ہے، وہاں پنجاب کے عوام کی فلاح کیلئے اعلانات ہورہے ہیں پختونخوا میں بھی حکومت بن رہی ہے لیکن یہاں کے عوام کیلئے لنگر خانوں کے اعلانات ہورہے ہیں پختونوں کے وسائل پر قبضہ کرکے انکو خیرات خور بنایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بتایا جائے اگر پی ٹی آئی کے پاس مینڈیٹ ہے تو سرخپوشوں سے اتنا ڈر کیوں ہے؟ہم نے پختونخوا اسمبلی کے سامنے پرامن احتجاج کی کال دی، آج پورے پشاور میں راستے بند کئے گئے ڈر اور خوف اگر اتنا ہی ہے تو ایسی گھنانی حرکتیں کیوں کرتے ہو؟آج چوکیدارخود چھپ گیا اور پولیس کو اے این پی سے لڑانے کی کوشش کی گئی انہوں نے کہا کہ پختونخوا پولیس ہمارا فخر ہے، پختونخوا پولیس اور پختون قوم ایک ہیں ہمارے راستے بند کرنے سے ہماری آواز کو دبایا نہیں جاسکتا اسکے بعد ہمارے کسی احتجاج کا راستہ روکا گیا تو اگلا مظاہرہ کور کمانڈر ہاس کے سامنے ہوگاایمل ولی خان نے کہا کہ خدائی خدمتگاروں کی پرامن جدوجہد نے انکے آقا انگریز کو بھی یہاں سے بھاگنے پر مجبور کیا تھاکل بھی چارسدہ کاایک پختون پولیس افسر دہشتگردوں کے ہاتھوں مردان میں شہید ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو دوبارہ جنرل باجوہ، فیض، عمران، عارف علوی اوردیگر سہولت کار لیکر آئے ہیں ان لوگوں نے جن دہشتگردوں کو دوبارہ آباد کرایا وہ آج پختونخوا پولیس کو نشانہ بنارہے ہیں اے این پی کی لڑائی نہ کبھی حکومتوں اور پارلیمان کا ممبربننے کی تھی اور نہ رہے گی پنجاب سے آکر یہاں نظام چلانے والے سن لیں ہماری لڑائی قوم کے حق اور خودمختاری کی ہے حالات ٹھیک کرنے ہیں تو ملک کے اندرونی سیکیورٹی کے تمام معاملات پولیس کے حوالے کرنے ہوں گے.
Load/Hide Comments



