لاہور (آن لائن) ضلع کچہری کی مقامی جوڈیشل عدالت نے چکوال میں دھرابی جھیل سے متعلق ٹھیکہ میں بدعنوانی کے الزام میں درج مقدمے میں گرفتار صحافی و اینکر پرسن عمران ریاض خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔جوڈیشل مجسٹریٹ عمران عابد نے کیس کی سماعت کی۔اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے عمران ریاض اور انکے والد پر تھرابی جھیل کا ٹھیکہ اونے پونے داموں لینے کا الزام میں مقدمہ درج کیا ہے جس میں عمران ریاض کو جمعرات کی رات محکمہ اینٹی کرپشن نے گرفتار کیا تھا جمعہ کو محکمہ اینٹی کرپشن حکام نے گرفتار عمران ریاض کو جسمانی ریمانڈ کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا۔ تفتیشی افسر کے مطابق عمران اور ان کے والد پر چکوال میں دھرابی جھیل سے متعلق ٹھیکہ مہنگے داموں حاصل کرنے کا الزام ہے دوران سماعت اینٹی کرپشن حکام نے عدالت سے عمران ریاض کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست پیش کی اور استدعا کی کہ تفتیش کے لیے عمران ریاض کا چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے جبکہ عمران ریاض کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی اور عدالت کو بتایا عمران ریاض جس انکوئری میں عمران ریاض کو گرفتار کیا گیا ہے اس انکوئری میں آخری مرتبہ 2022 میں انہیں بلایا گیا تھا اس کی بعد سے کبھی طلب نہیں کیا گیا اور نا ہی انکوئری آگے بڑھی۔عمران ریاض نے دورانِ سماعت عدالت کو بتایا کہ تھرابی جھیل کا گزشتہ ٹھیکہ 1 کروڑ 10 لاکھ کا تھا، ہم نے یہ ٹھیکہ 4 کروڑ سے زائد کا لیا،میں نے ہمیشہ پورا ٹیکس دیا، جب بھی کوئی زمین خریدی پٹواری کو کہا پوری قیمیت لگاؤ، ہم نے جب ٹھیکہ لیا تو اسکی بولی 1 کروڑ 10 لاکھ تھی، 4 کروڑ 40 لاکھ کا ٹھیکہ لیا، اس پر 10 فیصد ٹیکس بھی دیا، انہوں نے پہلے بلایا میں نے مکمل تعاون کیا، اب ایک اور تفتیشی تبدیل کیا ور مجھے گرفتار کیا۔عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کرلیا بعدزاں عدالت نے محکمہ اینٹی کرپشن کی طرف سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی اور عمران ریاض کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر ملزم عمران ریاض کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے واضح رہے کہ گذشتہ رات لاہور کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں عمران ریاض کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
Load/Hide Comments



