عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سابق آرمی چیف کے کہنے پر لانے کے مولانا فضل الرحمن کے بیان کو بے بنیاد قرار دیا ہے،حافظ طاہر اشرفی

اسلام آباد(آن لائن) وزیر اعظم کے معاون خصوصی اور سابق آرمی چیف جنرل (ر) باجوہ کے قریبی دوست حافظ طاہر اشرفی نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سابق آرمی چیف کے کہنے پر لانے کے مولانا فضل الرحمن کے بیان کو بے بنیاد قرار دیا ہے انہوں نے کہاکہ مولانا نے 16ماہ تک غیر آئینی حکومت میں اقتدار کے مزے لوٹے اور آج اسی کے قریب ہوگئے جس کو یہودی ایجنٹ کہتے تھے۔اپنے ویڈیو پیغام میں طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک جنرل باجوہ یا جنرل فیض لائے تھے یہ سراسر بے بنیاد ہے جنرل باجوہ نے تو سیاسی قائدین کی میٹنگ کے دوران عدماعتماد کی تحریک واپس کرنے کی بات کی تھی اور اس کی تصدیق بلاول بھٹو،میاں شہباز شریف اور باپ پارٹی اور ایم کیو ایم بھی کرسکتے ہیں انہیں کہا تھا کہ عدم اعتماد کی تحریک واپس لینے کا کہا تھا کہ عمران خان انتخابات کرانے کیلئے تیار ہیں انہوں نے کہاکہ مولانا 16ماہ تک اقتدار کے مزے لوٹتے رہے مولانا کے پاس وزارتیں تھی اور گورنر شپ کے مزے بھی لے رہے تھے اور مولانا غیر آئینی،غیر جمہوری سیاسی عمل کا حصہ تھے انہوں نے کہاکہ یہ بڑی عجیب بات ہے جو لوگ 1973کی آئین کی بات کرتے ہیں اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں اور جب الیکشن ہار جائیں تو باتیں کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ اب بھی مولانا کے لوگ جیت کر آئے ہیں انہوں نے کہاکہ تاریخ درست کرنا چاہتا ہوں کہ اس وقت تو جنرل فیض موجود ہی نہیں تھے اور یہ آن ریکارڈ ہے اس سے انکار ممکن نہیں ہے اور اس کے گواہ بھی موجود ہیں انہوں نے کہاکہ مجھے بڑا عجیب لگا کہ کل جو لوگ ہمارے اوپر فتوے لگاتے تھے کہ آپ تحریک انصاف کے لوگوں کے ساتھ ملتے ہیں آج وہ کیا کہیں گے کل شام تک وہ یہودی ایجنٹ تھے اور آج وہ مسلمانوں کے نمائندے ہوگئے یہ حقائق کے برخلاف باتیں ہیں اس کا جواب مولانا سے لینا چاہیے۔