اسلام آباد (آن لائن)نو منتخب حکومت کیلئے سب سے پہلا چیلنج آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کو مستحکم کرنا، آخری قسط کی وصولی اور ملکی معیشت کو درست سمت پر گامزن کرنے کیلیے نئے پیکج کا حصول ہوگا۔موجودہ قرض پروگرام ختم ہونے کے ساتھ آئی ایم ایف سے نیا قرض پروگرام سائن کیے جانے کا امکان ہے کیونکہ منتخب حکومت کا سب سے پہلا اور بڑا چیلنج معیشت ہی ہے، زرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئندہ مالی سال 2024-25 کے بجٹ کیلئے آئی ایم ایف وزارت خزانہ کو تجاویز دے گا۔آئی ایم ایف سے نیا قرض پروگرام ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی 3 سال کیلئے سائن کیے جانے کا امکان ہے کیونکہ بغیر آئی ایم ایف کے پاکستان کا گزارہ مشکل ہے کیونکہ معیشت کو کئی خطرات لاحق ہیں، زرائع وزرات خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ نئے قرض پروگرامکیلئے مذاکرات دوسرے اقتصادی جائزہ کے ساتھ ہوں گے، آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب ڈالر تک کا نیا قرض پروگرام سائن کیا جا سکتا ہے۔نئے قرض پروگرام سے قبل آئی ایم ایف کے ساتھ تمام شرائط پر عملدرآمد کیلئے یقین دہانی کرائی جائے گی اور مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئیگا کیونکہ نئے قرض پروگرام کے تحت بجلی، گیس مہنگی اور سبسڈیز پر مزید کٹوتی کی جائے گی۔نیا قرض پروگرام موجودہ اسٹینڈ بائی ارینجنٹ معاہدہ سے زیادہ مشکل شرائط پر مبنی ہو گا، گزشتہ ہفتہ میں ہونیوالے مذاکرات میں پاکستان اور ا?ئی ایم ایف کے درمیان ایک بار پھربڑی خلیج پیدا ہوگئی، آئی ایم ایف کی پاکستان کے بڑھتے ہوئے قرضوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ پاکستان کا قرضہ 65 کھرب روپے سے بھی تجاوز کرگیا جبکہ آئی ایم ایف نے گردشی قرضہ کو ختم کرنے کے منصوبے پر بھی تحفظات کا اظہار کردیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے غریب پر مزید بوجھ پڑیگا آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ تقسیم کار کمپنیوں میں ٰ بجلی چوری، لائن لاسز اور کیپٹو پاور کو سبسڈی ختم کی جائے تو غریب کو کچھ ریلیلف فراہم کیا جاسکتا ہے،یہ بھی کہا گیا ہے کہ توانائی اصلاحات منصوبہ میں توانائی کی پیداواری لاگت کو بہتر بنانے کا کوئی پروگرام نہیں،پاکستان کو آنیوالے دنوں میں آئی ایم ایف اسٹینڈ بائی ارینمنٹ کی آخری قسط حاصل کرنے میں مشکلات کا سامناہوسکتا ہے۔
Load/Hide Comments



