کراچی (آن لائن)میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں،سندھ کا آئندہ وزیراعلیٰ جیالا ہوگا، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ جب وفاق، صوبہ اور شہری حکومت مل کر کام کریں گے تو بہتری آئے گی، سندھ میں حکومت بنانے جارہے ہیں، وفاق میں بھی بلاول بھٹو کے پاس وزارت عظمیٰ آتی ہے تو ملک اور شہر کی خدمت کا خواب پورا ہوگا، مینڈیٹ کی بات پر فاروق ستار میرا منہ نہ کھلوائیں انہیں بلدیات کے لئے نہیں قومی و صوبائی اسمبلی کی سیٹوں پر کامیابی ملی ہے، پیپلزپارٹی کا ایک ایک کارکن عوام سے کئے گئے اپنے وعدہ کی تکمیل کرے گا،صوبے میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوتے ہی شہر میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام شروع کئے جائیں گے، عیسیٰ نگری کی عوام کا سیوریج دیرینہ مسئلہ تھا، پی پی نے اسے حل کر نے کا وعدہ کیا تھا، 52ایکڑ پر محیط اس کچی آبادی کو ماڈل آبادی بنا رہے ہیں، کراچی کے ساتوں اضلاع میں واقع سات مزید کچی آبادیوں کو ماڈل کچی آبادی بنائیں گے، یہ بات انہوں نے منگل کے روز 63 کروڑ روپے کی لاگت سے عیسیٰ نگری میں فراہمی و نکاسی آب کے نظام کی بحالی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی،اس موقع پر ڈپٹی میئرکراچی سلمان عبداللہ مراد، میئر کراچی کے نمائندہ خصوصی برائے سیاسی امور کرم اللہ وقاصی، سٹی کونسل میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، یوسی چیئرپرسن صنم بلوچ، پروجیکٹ ڈائریکٹر عثمان معظم اور دیگر افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ عیسیٰ نگری میں صنم بلوچ منتخب یوسی چیئرمین ہیں انہی کی توجہ سے یہاں کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے تحت یہ منصوبہ شروع کیا ہے، الیکشن کمیشن کی پابندی کے سبب پہلے اس کام کو شروع نہ کرایا جاسکا، اس جگہ مختلف قومیتوں کے لوگ بستے ہیں یہاں سیوریج اور پانی کے نظام کی بحالی کے لئے نئی لائنیں بچھائی جارہی ہیں، دسمبر تک ان دونوں کاموں کو مکمل کرلیا جائے گا، ضلع وسطی کی کچی آبادی سوبا نگر کی بحالی کا کام بھی شروع کردیا گیا ہے، میئر کراچی نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے عیسیٰ نگری کی 30 ہزار سے زائد آبادی کو پانی فراہم ہوگا جبکہ نکاسی آب کا نظام ٹھیک ہونے سے عیسیٰ نگری قبرستان میں سیوریج کا پانی جمع ہونے سے بھی نجات ملے گی، عوام کو سہولتیں مہیا کررہے ہیں، پیپلزپارٹی کا وژن ہر علاقے کو یکساں ترقی دینا ہے، ہم رنگ و نسل اور تعصب پر یقین نہیں رکھتے.
Load/Hide Comments



