سپریم کورٹ کا ایف آئی اے کو صحافیوں کو بھجوائے گئے نوٹس واپس لینے کا حکم،سماعت ایک دن کیلئے ملتوی

اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ میں صحافیوں اور یوٹیوبرز کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے جاری نوٹسز پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے نوٹسز فوری واپس لینے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ نے سماعت کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے اسد طور، مطیع اللہ جان، عمران شفقت اور عامر میر پر تشدد کیخلاف کارروائی پر رپورٹ طلب کرلی ہے۔عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہاہے کہ بتایا جائے مقدمات میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے؟ آگاہ کیا گیا ملزمان کا تعلق وفاقی حکومت کے ماتحت حساس ادارے سے ہے، تفتیشی افسر یقینی بنائے کہ صحافیوں کو ایف آئی اے کی جانب سے جاری نوٹسز سے آگاہ کیا گیا، بتایا گیا کہ نوٹسز عدالت کو تنقید کا نشانہ بنانے پر جاری کیے گئے ہیں،تنقید کرنا ہر شہری اور صحافی کا حق ہے، معاملہ صرف تنقید تک ہے تو کسی کیخلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے، اٹارنی جنرل نے حکومت کی جانب سے تنقید پر کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کروا دی، عدالت نے طلب کیے گئے صحافیوں کیخلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے روک دیا، عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو صحافیوں کیساتھ ملاقات کرنے کی ہدایت کر دی۔چیف جسٹس نے صحافیوں پر مقدمہ درج کرنے سے روک دیا۔اٹارنی جنرل حکومت پاکستان کی طرف سے بیان حلفی دیں گے کہ تنقید پر کسی کی گرفتاری نہیں ہوگی۔ اس تمام معاملے میں صحافیوں پر کا خصوصی خیال رکھا جائے آئین پاکستان تنقید کی اجازت دیتا ہے۔صحافیوں کو کیوں بلایا گیا ہے؟ عدالت کا ایف آئی اے حکام سے سوال عدالت نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخودنوٹس کی سماعت آج منگل تک ملتوی کر دی۔وفاقی حکومت صحافیوں پر تشدد کیخلاف رپورٹ دو ہفتے میں فراہم کرے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے پیرکوکیس کی سماعت کی۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، صدر پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ عقیل افضل سمیت وکلا اور صحافی عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کتنے کیسز ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہ 4 درخواستیں ہیں جن میں قیوم صدیقی اور اسد طور درخواستگزار ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی کے پاکستان بار کے نمائندے موجود ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی اب ختم ہو چکی۔اس دوران وکیل حیدر وحید نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت کو آزادی اظہار رائے کو ریگولیٹ کرنے کا حکم دینے کی درخواست کی تھی، اس پر چیف جسٹس نے حیدر وحید سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کی درخواست بعد میں دیکھیں گے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سب سے پہلے تو قیوم صدیقی بتائیں کہ کیس خود چلانا ہے یا پریس ایسوسی ایشن کے صدر دلائل دیں گے؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قدرت کا نظام دیکھیں کہ ہم نے ازخود نوٹس کورٹ نمبر 2 میں لیا لیکن معاملہ 5 رکنی بینچ کے پاس ازخود نوٹس کے اختیار کے لیے چلا گیا، 5 رکنی بینچ نے طے کیا کہ 184 (3) کا ازخود نوٹس لینے کا اختیار صرف چیف جسٹس کا ہے۔انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ صحافیوں کی ہی نہیں، ججز کی بھی آزادی اظہار رائے ہوتی ہے۔صحافی عبدالقیوم صدیقی نے کہا کہ میں کچھ حقائق سامنے رکھنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ نے تو کہا تھا کہ آپ اس کیس کو چلانا نہیں چاہتے؟عبدالقیوم صدیقی نے کہا کہ جب معاملہ جسٹس اعجازالاحسن کے بینچ میں گیا تو کہا تھا کہ کیس نہیں چلانا چاہتا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے کیس نمٹانے کے بجائے 2021 سے سرد خانے میں رکھ دیا، بتائیں کہ تب کیا درخواست تھی آپ کی اور اب کیا ہے؟دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بار بار کہہ رہا ہوں کب تک ماضی کی غلطیوں کو دہرائیں گے، ہم تو غلطیاں تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں، یہاں تو بس موقع دیکھا جاتا ہے۔انہوں نے مزید ریمارکس دیئے کہ میں سب غلطیاں اپنے سر پر اْٹھاؤں، بالکل نہیں اْٹھاؤں گا، مجھ سے غلطی ہوئی ہے تو مجھ پر اْنگلی اٹھائیں، اگر اْنگلی نہیں اٹھائی تو میری اصلاح نہیں ہو گی، تنقید کریں گے تو میری اصلاح ہوگی۔چیف جسٹس نے اسد طور سے استفسار کیا کہ آپ پر تشدد ہوا، کیا اْن کا پتا چلا کہ کون لوگ تھے؟ کیا آپ ان کی شکلیں پہچان سکتے ہیں؟اسد طور نے جواب دیا کہ جی بالکل، میں ان کی شکلیں پہچان سکتا ہوں۔