مظفر گڑھ (آن لائن) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انتخابات میں ووٹ کا درست استعمال کرکے اپنا مستقبل خود تراشنا ہوگا، 2018ء میں دھاندلی کے نتیجے میں ناجائز حکمران اس ملک پر براجمان ہوا،معیشت زیرو پر چلی گئی، فحاشی عام کر دی گئی، اس فتنے کو شرم آنی چاہئے،ہمارا کسی سے کوئی اتحاد نہیں، ہم نے مقامی تنظیموں کو اجازت دی ہے کہ وہ اتحاد کر سکتی ہیں۔ ان کا اظہار انہوں نے انتخابی جلسہ خطاب کرتے ہوئے کیا مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کو بنے 75 سال ہو گئے، یہ ملک لا الہ اللہ کے نام پر بنا، اس ملک میں ایک بھی کام شریعت کے مطابق نہیں، وطن عزیز کو قرآن و سنت کا نظام چاہئے، اس ملک نے ایک سیکولر سٹیٹ کا روپ دھار لیا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وطن عزیز میں غربت اور مہنگائی ہے، گھروں میں غربت ناچ رہی ہے، اس ملک میں ایسا حکمران دیکھا جس نے معیشت کی پوری عمارت گرا دی، فتنے کے دور میں معیشت زیرو پر چلی گئی، فحاشی عام کر دی گئی، اس فتنے کو شرم آنی چاہئے۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ یہ ہمیں ریاست مدینہ کا بتاتا ہے، روز روز تجربے کرنے کا وقت نہیں رہا، آپ کے ہاتھ میں پرچی آئے گی، پرچی پر کتاب کا نشان ہو گا، آج نشان کتاب ہے کل ملک کے اندر نظام بھی کتاب اللہ کا ہو گا، قرآن و سنت کا نام لیتے ہیں تو لوگ مذاق اڑاتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ اسی لئے تو 75 سال سے اس ملک کا یہ حال ہے، آئین تقاضا کرتا ہے کہ آئین قرآن و سنت کے مطابق بنے، آپ کے ووٹوں سے اسمبلیاں ان لوگوں سے بھر جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2018ء میں دھاندلی کی گئی، دھاندلی کے نتیجے میں ناجائز حکمران اس ملک پر براجمان ہوا، اگر کوئی دھاندلی کر کے سمجھتا ہے کہ ہم جمیعت کی سیٹیں چھین لیں گے تو ہم بھی یہیں ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ہمارا کسی سے کوئی اتحاد نہیں، ہم نے مقامی تنظیموں کو اجازت دی ہے کہ وہ اتحاد کر سکتی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں آ پ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانے آیا ہوں۔ ہمیں پرانی لکیروں کو مٹانا ہو گا۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ پارلیمان میں ہماری نمائندگی ہی نہیں تو بتائیں اس میں علماء کا قصور ہے یا پھر ووٹرز قصوروار ہیں۔ انہون نے کہا کہ جن لکیروں پر سفر کیا ان پرآگے نہیں جا سکتے۔ ہماری جماعت کی سیاست جاگیردار اور سرمایہ دار کی طرز پر سیاست نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مملکت کے اندر انسانی حقوق کا تحفظ سیاست کا نام ہے۔
Load/Hide Comments



