اسلام آباد(آن لائن)نگران وفاقی کابینہ نے قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کرتے ہوئے میں ایران سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کی منظوری دیدی ہے،وفاقی کابینہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمسائیہ ممالک سے کشیدگی نہیں چاہتا،ہم نہیں چاہتے کہ ایران کیسا تھ تعلقات خراب ہوں۔ایران نے غلط اقدام کیا جس کا جواب دیا۔تفصیل کے مطابق جمعہ کو نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزارت خارجہ نے نگراں وفاقی کابینہ کو 16 جنوری 2024 کو پاکستان پر ایرانی حملے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں حملے کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ردعمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کابینہ نے افواج پاکستان کی جانب سے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کا جواب دینے پر اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی ۔ اس سلسلے میں کس طرح پوری حکومتی مشینری نے متحد ہو کر کام کیا۔ کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان ایک قانون کی پاسداری کرنے والا اور امن پسند ملک ہے اور وہ تمام ممالک بالخصوص اپنے ہمسایوں کے ساتھ دوستانہ اور تعاون پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔نگران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ایران دو برادر ممالک ہیں جن کے تاریخی طور پر احترام اور پیار پرمبنی برادرانہ اور تعاون پر مبنی تعلقات قائم ہیں انہوں نے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے کہ وہ تعلقات کو بحال کرنے کے لیے اقدامات کریں جو 16 جنوری 2024 سے پہلے تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ اس سلسلے میں پاکستان ایران کی جانب سے تمام مثبت اقدامات کا خیرمقدم کرے گا۔
Load/Hide Comments



